اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 415
اصحاب بدر جلد 4 415 جب ہوش آئی تو وہ سعد کو بد دعا دینے لگیں۔تب اللہ عز و جل نے قرآن میں یہ آیت اتاری کہ وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسُنا (السبت: 9) کہ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے حقوق میں احسان کی تاکیدی نصیحت کی وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسُنا یہ عنکبوت کی آیت ہے اور پھر سورۂ لقمان میں یہ ہے کہ وَ إِنْ جَاهَدُكَ لِتُشْرِكَ في (لقمان: 16) اگر وہ دونوں تجھ سے جھگڑا کریں کہ تُو میرا شریک ٹھہرا تو اطاعت نہ کر وَ إِنْ جَاهَدُكَ لِتُشْرِكَ في کہ اگر وہ کہیں تو میر اشریک ٹھہرا تو پھر ان کی اطاعت نہیں کرنی اور اس میں پھر آگے یہ بھی ہے کہ وَصَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا (لقمان: 16) دونوں کے ساتھ دنیا میں دستور کے مطابق رفاقت جاری رکھو۔ان سے تعلق رکھو۔ان سے نیکی کرو۔972 یہ جھگڑا اگر شرک کے بارے میں کرنا ہے تو پھر بات نہیں مانی۔یہ جو تفصیلی بات ہے یہ مضمون اسی طرح پورا آگے چلتا ہے۔لیکن جو دنیاوی معاملات ہیں ان میں ان سے رفاقت جاری رکھو۔وَ صَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ان سے تعلق رکھو۔ان سے نیکی کرو۔یہ پہلی روایت مسلم میں تھی۔آگے پھر سیرت میں ایک اور حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ بہت پیار کرتا تھا مگر جب میں نے اسلام قبول کیا تو اس نے کہا کہ اے سعد! یہ کون سادین تُو نے اختیار کر لیا ہے۔یا تو تو اس نئے دین کو ترک کر دے یا میں کچھ نہ کھاؤں اور نہ پیوں گی یہاں تک کہ میں مر جاؤں گی۔حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ اے پیاری ماں ! ایسا نہ کرنا کیونکہ میں اپنے دین کو چھوڑنے والا نہیں ہوں۔حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اور ایک رات تک میری ماں نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور اس کی حالت خراب ہونے لگی تو میں نے ان سے کہا کہ اللہ کی قسم ! اگر تمہاری ایک ہزار جانیں ہوں اور وہ ایک ایک کر کے نکلیں تب بھی میں کسی کی خاطر اپنے دین کو ترک نہیں کروں گا۔جب آپ کی والدہ نے یہ دیکھا تو کھانا پینا شروع کر دیا۔اس موقعے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ وَ إِنْ جَاهَدُكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا التمان : 16) یعنی اگر وہ دونوں تجھ سے بحث کریں کہ تو کسی کو میرا شریک مقرر کرے جس کا تجھ کو کوئی علم نہیں مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم کوئی علم نہیں ہے فَلَا تُطِعْهُمَا تو ان دونوں کی بات مت ماننا۔ہاں دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ نیک تعلقات قائم رکھ کسی کا ایسا ماموں ہو تو دکھائے 973 رسول اللہ صلی علیکم حضرت سعد کو اپنا ماموں کہا کرتے تھے۔974 ایک دفعہ حضرت سعد سامنے سے آرہے تھے تو رسول اللہ صلی علیم نے انہیں دیکھ کر فرمایا یہ میرے ماموں ہیں۔کسی کا ایسا ماموں ہو تو دکھائے۔امام ترمذی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی الیم کی والدہ کا تعلق بنوز ھرہ سے تھا اور حضرت سعد بن ابی وقاص کا تعلق بھی بنو زھرہ سے تھا۔975