اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 392
اصحاب بدر جلد 4 392 محب رسول صلى اليوم ایک اور جگہ بیان ہوا ہے کہ حضرت زید بن حارثہ کو رسول اللہ صلی علی کم کا محب کہا جاتا تھا۔حضرت زید کے متعلق نبی کریم صلی الیم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ میر ا محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی زید۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ ان پر انعام کیا اور رسول اللہ صلی علیم نے آزادی کے ذریعہ ان پر انعام کیا۔912 جنگ موتہ کا بدلہ لینے کے لئے لشکر کی تیاری اور اسامہ بن زید امیر لشکر جنگ موتہ کے بارے میں مختلف تاریخ کی کتب میں جو درج ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جنگ موتہ کا بدلہ لینے کے لیے آنحضرت صلی علیہم نے ایک بہت بڑا لشکر تیار فرمایا جو صفر گیارہ ہجری میں رسول کریم صلی علیکم نے تیار فرمایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ روم کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔گو جنگ موتہ کے بعد یہ جو تیار فرمایا تھا اس کا زید بن حارثہ سے براہ راست تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی شہید ہو چکے تھے لیکن فوج کی تیاری اور وجہ میں حضرت زید بن حارثہؓ کا ذکر بھی آتا ہے اس لیے یہ حصہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔کچھ حصے کا حضرت اسامہ کے ذکر میں بھی غالباً کچھ عرصہ پہلے ذکر ہو چکا ہے بہر حال حضرت اسامہ بدری صحابی نہیں تھے اس وقت بہت چھوٹے تھے لیکن پہلے کیونکہ میں عمومی طور پر صحابہ کا ذکر کر رہا تھا اس میں ان کا ذکر ہو گیا تھا۔بہر حال یہ لشکر جب تیار ہوا تو اگلے دن آپ صلی یکم نے حضرت اسامہ بن زید کو بلایا اور اس مہم کی قیادت آپ کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا اپنے باپ کے شہید ہونے کی جگہ کی طرف جاؤ اور ملک شام کے لیے روانگی کا ارشاد کرتے ہوئے فرمایا جب روانہ ہو تو تیزی کے ساتھ سفر کرو اور ان تک اطلاع پہنچنے سے پہلے وہاں پہنچ جاؤ۔پھر صبح ہوتے ہی اہل ابنی یعنی ملک شام میں بلقاء کے علاقے میں مُؤتہ کے قریب ایک مقام جہاں جنگ موتہ ہوئی تھی وہاں پر حملہ کرو اور بلقاء، یہ ملک شام میں واقع ایک علاقہ ہے جو دمشق اور وادی القریٰ کے درمیان ہے۔اس کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت لوط کی نسل میں سے بالق نام کے ایک شخص نے آباد کیا تھا۔اور داروم کے بارے میں لکھا ہے کہ مصر جاتے ہوئے فلسطین میں غزہ کے مقام پر ایک مقام ہے بہر حال آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ حضرت زید کا بدلہ لینے کے لیے ان جگہوں کو اپنے گھوڑوں کے ذریعہ سے روند ڈالو۔آنحضرت صلی علیکم نے اسامہ سے مزید فرمایا اپنے ساتھ راستہ بتانے والے بھی لے کر جاؤ اور وہاں کی خبر کے حصول کے لیے بھی آدمی مقرر کرو جو تمہیں صحیح صورت حال سے آگاہ کریں۔اللہ تعالیٰ تمہیں کامیابی بخشے تو جلد واپس لوٹ آنا۔اس مہم کے وقت حضرت اسامہ کی عمر سترہ سال سے ہیں سال کے درمیان تھی۔آپ صلی للی کم نے حضرت اسامہ کے لیے اپنے ہاتھ سے ایک جھنڈ ا باندھا اور حضرت اسامہ سے کہا کہ اللہ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں جہاد کر وجو اللہ کا انکار کرے اس سے جنگ کرو۔حضرت اسامہ یہ جھنڈا لے کر نکلے اور اسے حضرت بریدہ کے سپرد کیا۔یہ لشکر جزف مقام پر اکٹھا ہو نا شروع ہوا۔جُزف بھی مدینہ سے