اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 377
ناب بدر جلد 4 377 ہو گی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قصہ سر تا پا محض غلط اور جھوٹ ہے اور روایت و درایت ہر طرح سے اس کا جھوٹا ہونا ظاہر ہے۔روایت تو اس قدر جاننا کافی ہے کہ اس قصے کے راویوں میں زیادہ تر واقدی اور عبد اللہ بن عامر آسلیمی کا واسطہ آتا ہے اور یہ دونوں شخص محققین کے نزدیک بالکل ضعیف اور نا قابلِ اعتماد ہیں حتی کہ واقدی تو اپنی کذب بیانی اور دروغ بیانی میں ایسی شہرت رکھتا ہے کہ غالباً مسلمان کہلانے والے راویوں میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ اور اس کے مقابلہ میں وہ روایت جو ہم نے اختیار کی ہے جس میں زید کا آنحضرت صلی ال یکم کی خدمت میں حاضر ہو کر زینب کی بدسلوکی کی شکایت کرنا بیان کیا گیا تھا، (وہ پچھلے خطبے میں بیان ہوئی تھی) اور اس کے مقابلے میں آنحضرت صلی للی کم کا یہ فرمان بیان کیا گیا تھا کہ تم خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور طلاق نہ دو، یہ روایت جو ہے وہ بخاری کی روایت ہے جو دوست اور دشمن کے نزدیک قرآن شریف کے بعد اسلامی تاریخ کا صحیح ترین ریکارڈ سمجھی جاتی ہے اور جس کے خلاف کبھی کسی حرف گیر کو انگلی اٹھانے کی جرأت نہیں ہوئی۔پس اصولِ روایت کی رو سے دونوں روایتوں کی قدر و قیمت ظاہر ہے۔اسی طرح عقلاً بھی غور کیا جاوے تو ابن سعد وغیرہ کی روایت کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا کیونکہ جب یہ بات مسلم ہے کہ زینب آنحضرت صلی علیہم کی پھو پھی زاد بہن تھیں حتی کہ آپ ہی نے ان کے ولی بن کر زید بن حارثہ سے ان کی شادی کی تھی اور دوسری طرف اس بات سے بھی کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ اب تک مسلمان عور تیں پر وہ نہیں کرتی تھیں بلکہ پردہ کے متعلق ابتدائی حکم حضرت زینب اور آنحضرت صلی اللی علم کی شادی کے بعد نازل ہوئے تھے تو اس صورت میں یہ خیال کرنا کہ زینب کو آپ صلی یم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، صرف اس وقت اتفاقی نظر پڑ گئی اور آپ ان پر فریفتہ ہو گئے ایک صریح اور بد یہی بطلان اور جھوٹ ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔یقیناً اس سے پہلے آپ نے ہزاروں دفعہ زینب کو دیکھا ہو گا اور ان کے جسم کا حسن و فتح جو کچھ بھی تھا آپ پر عیاں تھا اور گو اوڑھنی کے ساتھ دیکھنا اور اوڑھنی کے بغیر دیکھنا کوئی فرق نہیں رکھتا لیکن جب رشتہ اس قدر قریب تھا اور پر دے کی رسم بھی اور حکم بھی اس وقت شروع نہیں ہوا تھا اور ہر وقت کی میل ملاقات تھی تو اغلب یہ ہے کہ آپ کو کئی دفعہ انہیں بغیر اوڑھنی کے دیکھنے کا اتفاق بھی ہو اہو گا اور زینب کا آپ کو اندر تشریف لانے کے لیے عرض کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت ان کے بدن پر اتنے کپڑے ضرور تھے کہ وہ آنحضرت صلی الی و کم کے سامنے ہونے کے لیے تیار تھیں۔پس جس جہت سے بھی دیکھا جائے یہ قصہ ایک محض جھوٹا اور بناوٹی قصہ قرار پاتا ہے جس کے اندر کچھ بھی حقیقت نہیں اور اگر ان دلائل کے ساتھ آنحضرت صلی علی یم کی اس کامل درجہ مقدس اور زاہدانہ زندگی کو بھی مد نظر رکھا جائے جو آپ کی ہر حرکت و سکون سے واضح اور عیاں تھی تو پھر تو اس واہیات اور فضول روایت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور یہی وجہ ہے کہ محققین نے اس قصے کو قطعی طور پر جھوٹا اور بناوٹی قرار دیا ہے۔مثلاً علامہ ابنِ حجر نے