اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 376

اصحاب بدر جلد 4 376 بعض اعتراضات اور ان کے جواب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مزید لکھتے ہیں کہ جیسا کہ اندیشہ کیا جاتا تھا حضرت زینب کی شادی پر منافقین مدینہ کی طرف سے بہت اعتراضات ہوئے اور انہوں نے بر ملا طور پر طعن کیسے کہ محمد صلی ا ہم نے اپنے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر کے گویا اپنی بہو کو اپنے اوپر حلال کر لیا ہے لیکن جب اس شادی کی غرض ہی عرب کی اس جاہلانہ رسم کو مٹانا تھی تو پھر ان طعنوں کا سننا بھی ضروری تھا۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ابنِ سعد اور طبری وغیرہ نے حضرت زینب بنت جحش کی شادی کے متعلق ایک سراسر غلط اور بے بنیاد روایت نقل کی ہے اور چونکہ اس سے آنحضرت صلی الم کی ذات والا صفات کے خلاف اعتراض کا موقع ملتا ہے اس لیے بعض مسیحی مؤرخین نے اس روایت کو نہایت ناگوار صورت دے کر اپنی کتب کی زینت بنایا ہے۔روایت یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی علیکم نے زینب بنت جحش کی شادی زید کے ساتھ کر دی تو اس کے بعد آپ کسی موقع پر زید کی تلاش میں ان کے مکان پر تشریف لے گئے۔اس وقت اتفاق سے زید بن حارثہ اپنے مکان پر نہیں تھے۔چنانچہ جب آنحضرت صلی علی یکم نے دروازے سے باہر کھڑے ہو کر زید کو آواز دی تو زینب نے اندر سے جواب دیا کہ وہ مکان پر نہیں ہیں اور ساتھ ہی آنحضرت صلی للی نام کی آواز پہچان کر وہ لپک کر اٹھیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔آپ اندر تشریف لے آئیں لیکن آنحضرت صلی الی یکم نے انکار فرمایا اور واپس لوٹنے لگے۔اب یہ راوی اس طرح کی روایت آگے لکھتے ہیں کہ مگر چونکہ حضرت زینب گھبر اکر ایسی حالت میں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں کہ ان کے بدن پر اوڑھنی نہیں تھی اور مکان کا دروازہ کھلا تھا۔آنحضرت صلی یک کم کی نظر ان پر پڑ گئی اور آپ نعوذ باللہ ان کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر یہ الفاظ گنگناتے ہوئے واپس لوٹ گئے کہ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللهِ مُصَرِفِ الْقُلُوبِ کہ پاک ہے وہ اللہ جو سب سے بڑائی والا ہے اور پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں لوگوں کے دل ہیں جدھر چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔جب زید بن حارثہ واپس آئے تو زینب نے ان سے آنحضرت صلی علیکم کے تشریف لانے کا قصہ بیان کیا اور زید کے دریافت کرنے پر کہ آپ صلی للہ کم کیا فرماتے تھے۔حضرت زینب نے آنحضرت صلی علی کر کے یہ الفاظ بیان کیے اور کہا میں نے تو عرض کیا تھا کہ آپ اندر تشریف لے آئیں مگر آپ نے انکار فرمایا اور واپس تشریف لے گئے۔یہ سن کر زید آنحضرت صلی ظلم کی خدمت میں گئے اور کہا یار سول اللہ ! شاید آپ کو زینب پسند آگئی ہے۔اگر آپ پسند فرمائیں تو میں اسے طلاق دے دیتا ہوں اور پھر آپ اس کے ساتھ شادی فرمالیں۔آپ نے فرما یازید ! خدا کا تقویٰ کرو اور زینب کو طلاق نہ دو۔یہ روایت لکھنے والے پھر آگے اس طرح لکھتے ہیں کہ مگر اس کے بعد زید نے زینب کو طلاق دے دی۔یہ وہ روایت ہے جو ابنِ سعد اور طبری وغیرہ نے اس موقع پر بیان کی ہے اور گو اس روایت کی ایسی تشریح کی جاسکتی ہے جو چنداں قابلِ اعتراض نہیں، بالکل قابل اعتراض نہیں