اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 356
تاب بدر جلد 4 356 سو مسلمانوں کے ساتھ حضرت زیاد بن لبید اور حضرت مہاجر بن ابی امیہ کی مدد کے لیے بھیجا۔وہ لشکر کے پاس اس وقت پہنچے جب انہوں نے نخیر جو کہ یمن میں ہے اس کو فتح کر لیا تھا۔پھر حضرت زیاد بن لبید نے ان کو مال غنیمت میں سے حصہ دیا۔فتح کے بعد یہ قافلہ پہنچا تھا۔امام شافعی کہتے ہیں کہ حضرت زیاد نے اس معاملہ کے بارے میں حضرت ابو بکر کو لکھا تھا۔حضرت ابو بکر نے ان کو جواباً خط لکھا کہ مالِ غنیمت پر صرف اسی کا حق ہے جو جنگ میں شریک ہوا ہے۔اور ان کے خیال میں عکرمہ کا کوئی حصہ نہیں بنتا کیونکہ وہ اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔حضرت زیاد نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے عکرمہ اور اس کے لشکر کو دلی خوشی سے اس مالِ غنیمت میں شامل کر لیا۔843 118 حضرت زید بن اسلم انصاری حضرت زید بن اسلم۔یہ بھی انصاری ہیں۔حضرت زید بن اسلم کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عجلان سے تھا۔یہ غزوہ بدر اور احد میں شامل ہوئے اور حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں طلیحہ بن خویلد الاسدی کے خلاف لڑتے ہوئے بُزاخہ کے دن شہید ہوئے۔بزاخہ نجد میں ایک چشمہ ہے جہاں مسلمانوں کی اسلامی حکومت کے باغی اور مدعی نبوت طلیحہ بن خویلد الاسدی سے جنگ ہوئی تھی۔844 ン 119 حضرت زید بن مزين حضرت زید بن مُزَيْن مُزيّن بن قیس ان کے والد کا نام تھا۔حضرت زید کا نام یزید بن الْمُرین بھی بیان ہوا ہے۔آپ کا تعلق خزرج قبیلہ سے تھا۔حضرت زید غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔ہجرت مدینہ کے وقت آنحضرت صلی الم نے حضرت زید اور حضرت مسطح بن اثاثہ کے در میان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔آپ کی اولاد میں بیٹا عمرو اور بیٹی رملہ تھیں۔845