اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 325
اصحاب بدر جلد 4 325 جسمانی قوت کے ساتھ ملائکۃ اللہ متعین ہیں اور ان کا تعلق ہر انسان کی ہر قوت سے مختلف حالات کفر و ایمان میں کم و بیش ہوتا ہے۔قرآن مجید نے ان کی تعداد غزوہ بدر کے ذکر میں تین ہزار اور غزوہ اُحد میں پانچ ہزار بتائی ہے۔یہ فرق موقع و محل کے اختلاف اور اہمیت فرض منصبی کی وجہ سے ہے۔جنگ بدر میں دشمن کی تعداد کم اور جنگ اُحد میں زیادہ اور اسی نسبت سے خطرہ بھی زیادہ اور ملائکہ کی حفاظت بھی زیادہ تعداد میں نازل کئے جانے کا وعدہ ہے۔فرماتا ہے: وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ( آل عمران : 127) " کہ " موعودہ نصرت الہی کا ظہور اللہ تعالیٰ کی صفت عزیزیت اور صفت حکیمیت سے ہے۔یہ دونوں صفتیں حسن تدبیر اور کامل غلبہ واستحکام کی متقاضی ہیں جن میں اسباب نصرت کے تمام حلقے ایک دوسرے سے پیہم پیوست ہوتے ہیں۔ان میں 769 تسلسل و احکام پایا جاتا ہے اور وہ محکم تدبیر الہی سے قوی و مضبوط کئے جاتے ہیں۔"768 تو یہ ہے وہ ساری اس علم کی گہرائی جو ملائکتہ اللہ کے جنگ کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتے بھیجے تھے جو جنگ کر رہے تھے نہ یہ کہ فرشتے خود مار رہے تھے۔اور بعضوں کے نزدیک تو یہ بھی روایتوں میں ہے کہ فرشتوں نے جن کو مارا اور جن کو زخم لگائے ان کی پہچان بالکل علیحدہ تھی اور جو صحابہ کے ذریعہ سے لوگوں کو زخم پہنچ رہے تھے ان کی پہچان علیحدہ تھی۔یہ غلط چیز ہے۔اصل یہی ہے کہ فرشتے انسانی قوی کو صحیح طرح رہنمائی کرتے ہیں اور ان کا صحیح استعمال کرتے ہیں اور فرشتوں کی طرف سے جب یہ ہو رہا ہو تا ہے تو وہی فرشتوں کا لڑنا ہے۔جنگ بدر میں شامل ہونے کی فضیلت حضرت بچی نے معاذ بن رفاعہ بن رافع سے روایت کی ہے۔حضرت رفاعہ اہل بدر میں سے اور ان کے والد حضرت رافع عقبہ میں بیعت کرنے والوں میں سے ایک تھے۔حضرت رافع اپنے بیٹے حضرت رفاعہ سے کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ بات خوش نہ کرتی کہ بجائے بدر میں شریک ہونے کے میں عقبہ میں بیعت کرنے والوں میں شامل ہو تا۔یعنی یہ بات میرے لئے بہت بڑی بات ہے، میرے لئے یہ زیادہ قابل اعزاز ہے کہ میں جنگ بدر میں شامل ہوا بہ نسبت اس کے کہ بیعت عقبہ میں میں نے بیعت کی۔770 ایک بہت بڑا اعزاز مجھے جنگ بدر میں شامل ہو کے ملا۔اے انصار کے گروہ ! امیر المومنین کی دوسری دفعہ مدد کرو حضرت رفاعه بن رافع جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی کے ہمراہ تھے۔ایک روایت کے مطابق ،حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بصرہ کی طرف لشکر کے ہمراہ نکلے تو حضرت عباس بن عبد المطلب کی اہلیہ لفضل بنت حارث نے حضرت علی ہو ان کے خروج کی اطلاع دی۔اس پر حضرت علی نے کہا حیرت ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان پر حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا اور بغیر اکراہ کے میری بیعت کی۔میں نے زبر دستی تو نہیں کہا تھا کہ بیعت کرو۔ام ال