اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 324
ب بدر جلد 4 324 بیٹھنا۔(جو بھی تیر صحابہ چلاتے تھے وہ نشانے پر صحیح بیٹھتا تھا۔اس کا صحیح بیٹھنا) اور کاری ثابت ہو نا، دشمن کی سراسیمگی اور صحابہ کرام کی دلجمعی۔"دشمن پریشان تھا اور صحابہ کرام بڑی مستقل مزاجی اور دلجمعی سے جنگ لڑ رہے تھے۔یہ سب ملائکۃ اللہ کے تصرف کا کرشمہ تھا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللی علم کو ان الفاظ میں دی تھی إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ إِنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُردِ فِينَ (1) نخل (10) " کہ اور اس وقت کو بھی یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے التجائیں کرتے تھے اس پر تمہارے رب نے تمہاری دعاؤں کو سنا" اور کہا کہ " میں تمہاری مدد ہزاروں فرشتوں سے کروں گا جن کا لشکر کے بعد لشکر بڑھ رہا ہو گا۔" پھر لکھتے ہیں کہ " دعائے نبوی کی قبولیت سے ظاہری اسباب میں جو جنبش پید ا ہوئی اس کے اندر ایک عجیب تسلسل دکھائی دیتا ہے۔اس کے حصوں پر یکجائی نظر ڈالنے سے ملائکتہ اللہ کا لشکر بیکراں کار فرما نظر آتا ہے۔"آپ بیان کرتے ہیں کہ " کس نے نبی کریم صلی یک کو نازک گھڑی میں بحفاظت مکہ مکرمہ سے نکالا اور کس نے اہل مکہ کو غافل رکھا اور پھر کس نے انہیں غار ثور تک لا کر آپ کے تعاقب سے قریش کو نا امید واپس لوٹا دیا اور کس نے نبی کریم صلی علیکم کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچایا جو اسلام کی ترقی کا اہم مرکز بنا۔" پھر لکھتے ہیں کہ "حضرت عباس کا ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ میں بحالت شرک رہنا اور پھر آنحضرت صلی الم سے دلی ہمدردی رکھنا اور آپ کو مدینہ منورہ میں قریش مکہ کے بد ارادوں اور منصوبوں سے آگاہ کرتے رہنا یعنی حضرت عباس کے ذریعہ سے " یہ بھی ملائکۃ اللہ کے تصرف کا ایک حصہ ہے۔" ملائکہ اس طرح کام کرتے ہیں۔" ان سب واقعات کے پس پردہ ملائکہ ہی کی تحریک کار فرما آنحضرت صلی ایم کے غزوات اور فتح و ظفر مندی کا پس منظر ایمان افروز آیت أَنِّي مُمِنكُمْ بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَكَةِ مُردِفِينَ (انفال:10) کی تفسیر پیش کرتا ہے۔" "نور الدین کو بھی ملائکتہ اللہ سے ہمکلام ہونے کا موقع ملا ہے“ پھر شاہ صاحب مزید فرماتے ہیں کہ "میں نے صحیح بخاری مکمل حضرت خلیفہ اول حضرت مولانانور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے سبقاً سبقاً پڑھی ہے اور اسی طرح قرآن مجید بھی کئی بار در سا در ساسنا اور پڑھا ہے۔آپ ا یعنی حضرت خلیفتہ المسیح الاول " ملائکۃ اللہ کے تعلق میں فرمایا کرتے تھے کہ نور الدین کو بھی ملائکتہ اللہ سے ہمکلام ہونے کا موقع ملا ہے اور نظام ملکی بہت وسیع نظام ہے۔انسان کے قومی اور ملکات میں سے ہر قوت و ملکہ کے لئے بھی ملائکہ متعین ہیں۔قوت بصر و بصیرت، قوت سمع و سماعت، قوت لمس و بطش اور عقل و شعور اور قوائے مفکرۃ ومدبرہ کے ساتھ اگر ملائکتہ اللہ کی مدد اور ہم آہنگی نہ ہو تو یہ قوتیں بریکار بلکہ نقصان دہ ہو جاتی ہیں۔"ساری انسانی استعدادیں اور قوتیں جو ہیں وہ فرشتوں کی وجہ سے ہی کارآمد ہوتی ہیں۔" پھر لکھتے ہیں کہ "تیر یا گولی کی شست و نشست اسی وقت اپنے نشانے پر راس آسکتی ہے جب عقل و شعور اپنے ٹھکانے پر اور دور و نزدیک کے فاصلے کا اندازہ صحیح ہو۔اوسان بجا ہوں۔قوت قلبیہ بر قرار ہو ورنہ تیر خطا جائے گا۔"لکھتے ہیں کہ خلیفہ اول " فرمایا کرتے تھے کہ ایک ایک ذہنی اور