اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 304

اصحاب بدر جلد 4 304 719 لمبے بالوں کی بجائے یہاں تک کاٹ دیے، اور اپنا ازار نصف پنڈلیوں تک اوپر کر لیا۔9 کیونکہ وہ اس وقت لوگوں میں فخر کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔اس لیے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ بلاوجہ بلا ضرورت لمبے بال رکھنے میں کیا حرج ہے۔اتنے ہی پٹے کانوں کی لو تک، رکھنے چاہئیں جتنے آنحضرت صلی یکم نے فرمایا عورتوں کی طرح لمبے نہیں ہونے چاہئیں۔حضرت عمر کے زمانے میں شام کی فتوحات میں یہ شریک ہوئے تھے۔120 رض حضرت قیس بن ابو حازم اور حضرت عامر شعبی سے مروی ہے کہ مروان بن حکم نے حضرت آیمن بن حریم سے کہا تم ہمارے ساتھ جنگ میں کیوں شریک نہیں ہوتے ؟ انہوں نے کہا میرے والد اور میرے چچا غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ تاکیدی حکم دیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص سے نہ لڑوں جو کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔حضرت ایمن نے مروان بن حکم سے کہا کہ اگر تم میرے پاس آگ سے براءت لائے ہو تو میں تمہارے ساتھ جنگ میں شریک ہو جاؤں گا تو مروان نے کہا تم ہمارے پاس سے چلے جاؤ۔پس وہ نکلے تو یہ اشعار پڑھتے جارہے تھے کہ میں کسی شخص سے نہیں لڑوں گا جو قریش کے کسی دوسرے سلطان کی تعریف کرتا ہے۔اس کے لیے اس کی سلطنت ہے اور میرے اوپر میرا گناہ میں ایسی جہالت اور غصے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔کیا میں ایک مسلمان کو بغیر کسی جرم کے قتل کروں گا۔اگر ایسا ہوا تو میں جتنی زندگی بھی جی لوں اس کا مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔1 آج کل کے مسلمانوں کے عمل دیکھیں تو پتا لگتا ہے کہ یہ اصل تعلیم سے کتنی دُور جاچکے ہیں۔722 721 94 حضرت خلاد بن رافع آنحضرت صلی ال نیم کے ایک صحابی جن کا نام حضرت خَلاد بن رافع زُرقی تھا آپ انصاری تھے۔یہ ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھے جو غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے اولاد بھی کثیر عطا فرمائی۔723 نبی اکرم صلی کم کی دعا اور بابرکت پانی کی بدولت اونٹ کی تیز رفتاری ایک روایت میں آتا ہے کہ مُعاذ بن رفاعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں میں اپنے بھائی حضرت خلاد بن رافع کے ہمر اور سول اللہ صلی می ریم کے ساتھ ایک بہت لاغر کمزور اونٹ پر سوار ہو کر بدر