اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 300
بدر جلد 4 پہلے صحابی جن کو لکڑی پر باندھ کر شہید کیا گیا 70911 300 علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں کہ حضرت خبیب " پہلے صحابی تھے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر صلیب دیے گئے۔708 یعنی پہلے لکڑی کھڑی کی گئی ، زمین پر گاڑی گئی اس پر ان کو باندھ کے پھر شہید کیا گیا۔اس قتل کے واقعے کے بارے میں حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ " اس تماشے کو دیکھنے والوں میں ابوسفیان رئیس مکہ بھی تھا۔وہ زید کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ محمد تمہاری جگہ پر ہو اور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو ؟ " صلی علی زید نے بڑے غصے سے جواب دیا کہ ابوسفیان ! تم کیا کہتے ہو ؟ خدا کی قسم ! میرے لیے مرنا اس سے بہتر ہے کہ آنحضرت صلی علیکم کے پاؤں کو مدینے کی گلیوں میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔اس فدائیت سے ابو سفیان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔" یہ جو جواب تھا ایسا تھا کہ ابوسفیان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اس نے حیرت سے زید کی طرف دیکھا اور فوراً ہی پھر دبی زبان میں کہنے لگا کہ خدا گواہ ہے کہ جس طرح محمد کے ساتھ محمد کے ساتھی محبت کرتے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی اور شخص کسی سے محبت کرتا ہو۔یہ تھا صحابہ کا آنحضرت علی ایام سے عشق و وفا کا تعلق اور جان قربان کر دینے کا معیار بھی۔پھر اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی ان سے کیا تھا وہ بھی ظاہر ہو گیا۔ان کا اپنا معیار کیا تھا۔جب یہ انہوں نے کہا کہ جب میں خدا تعالیٰ کی راہ میں مارا جارہا ہوں تو جس پہلو میں بھی گروں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دائیں گرتا ہوں، بائیں گرتا ہوں، آگے گرتا ہوں، پیچھے گرتا ہوں۔میں تو خدا تعالیٰ کی خاطر جان دے رہا ہوں۔710 ایک آرزو تھی جس کا انہوں نے قتل کیے جانے سے پہلے اظہار کیا اور وہ بھی یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کر لوں، دو نفل پڑھ لوں۔آنحضرت صلی علی کم کو سلام پہنچانے کی آرزو تھی، خواہش تھی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی وہ بھی پہنچا دیا۔آنحضرت صلی علیم سے عشق کا یہ حال تھا کہ یہ بھی گوارہ نہیں ہوا کہ آپ کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھ جائے اور اس کے بدلے میں میری زندگی بچے۔آنحضرت علی ایم کی کسی ہلکی سی تکلیف کی بھی اہمیت تھی اور اپنی جان کی کوئی پروا نہیں تھی۔تب ہی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے تھے۔711