اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 297
اصحاب بدر جلد 4 297 شام کے وقت میں نے اپنے ساتھی سے کہا اب ہم محفوظ ہیں۔پس ہم رات کو مکے سے مدینے کی طرف نکلے تو ایک پارٹی کے پاس سے گزرے جو حضرت خبیب بن عدی کی نعش کی حفاظت کر رہی تھی۔ان میں سے ایک شخص نے حضرت عمرو کو دیکھ کر کہا کہ خدا کی قسم ! جتنی اس شخص کی چال عمرو بن امیہ سے ملتی ہے اس سے زیادہ میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔اگر وہ مدینے میں نہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہی عمرو بن امیہ ہے۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔کہتے ہیں کہ حضرت جبار جب اس لکڑی تک جس پر حضرت خبیب کو لٹکایا گیا تھا وہاں تک پہنچے تو جلدی سے اسے اٹھا کر چل پڑے۔وہ لوگ بھی آپ کے پیچھے بھاگے۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ وہ لوگ شراب کے نشے میں تھے ، بد مست تھے ، کچھ جاگ رہے تھے، کچھ سو رہے تھے، کچھ اونگھ رہے تھے تو بہر حال ان کو پتا نہیں لگا اور یہ جلدی سے لے کے بھاگے اور پھر ان کو بھی پتالگا تو آپ لوگوں کے پیچھے بھاگے یہاں تک کہ جب حضرت جبار یا حج پہاڑ کے سیلابی نالے کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس لکڑی کو اس کے اندر پھینک دیا۔وہ لوگ بھی پیچھے پہنچے لیکن اللہ تعالٰی نے اس لکڑی کو ان کافروں کی آنکھوں سے اوجھل کر دیا اور وہ اسے نہ ڈھونڈ سکے۔حضرت عمر و بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی یعنی حضرت جبار سے کہا کہ تم یہاں سے نکلو اور اپنے اونٹ پر بیٹھ کر روانہ ہو جاؤ۔میں ان لوگوں کو تمہارے پیچھے آنے سے روکے رکھوں گا۔حضرت عمر و بیان کرتے ہیں کہ پھر میں چلا یہاں تک کہ مجنان پہاڑ تک پہنچ گیا جو ملے سے بچیں میل کے فاصلے پر واقع ہے۔میں نے ایک غار میں پناہ لی۔وہاں سے نکلا یہاں تک کہ مقام عزج پر پہنچا جو مدینے سے 78 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔پھر چلتا گیا، کہتے ہیں کہ جب میں مقام نقیح پر اتر اجو مدینے سے تقریباً ساٹھ میل کے فاصلے پر ہے تو مشرکین نے قریش کے دو آدمی دیکھے جنہیں قریش نے مدینہ میں جاسوسی کے لیے بھیجا تھا۔میں نے انہیں کہا کہ ہتھیار ڈال دو۔پتا تو لگ گیا ہے کہ تم جاسوسی کرنے آئے ہو لیکن وہ نہ مانے۔اس پر وہاں لڑائی شروع ہو گئی ، کہتے ہیں ایک کو تو میں نے تیر مارا اور اس کو ہلاک کر دیا اور دوسرے کو قیدی بنالیا اور پھر اسے باندھ کر مدینہ لے آیا۔702 حضرت خبیب کی نعش اور لکڑی کا غائب ہو جانا ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت عمرو بن امیہ ضمری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال ولم نے انہیں تنہا جاسوس کے طور پر بھیجا تا کہ حضرت خبیب کو لکڑی سے اتاروں۔وہ کہتے ہیں کہ رات کے وقت میں حضرت خبیب کی لکڑی کے پاس پہنچ کر اس کے اوپر چڑھ گیا تو اس وقت خوف تھا کہ کوئی مجھے دیکھ نہ لے۔جب میں نے اس لکڑی کو چھوڑ دیا تو زمین پر گر پڑی۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ لکڑی ایسی غائب ہو گئی گویا اسے زمین نے نگل لیا۔پھر اس وقت سے لے کر آج تک خبیب کی ہڈیوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔103