اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 228
اصحاب بدر جلد 4 228 قامت کی طرف مائل اور موٹی انگلیوں والے تھے۔یعقوب بن عتبہ سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اپنی وفات کے دن چار ہزار دینار اور در اہم چھوڑے۔آپ غلہ وغیرہ کے تاجر تھے اور آپ نے اپنا تر کہ مدینہ میں چھوڑا۔548 حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حاطب کا غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی شکایت لے کر آیا۔غلام نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! خاطب ضرور جہنم میں داخل ہو گا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے جھوٹ بولا۔وہ اس میں ہر گز داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ میں شامل ہو ا تھا۔549 حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے پاس سے گزرے وہ بازار میں کشمش بیچ رہے تھے۔حضرت عمرؓ نے کہا یا تو اپنی قیمت زیادہ کریں یا پھر ہمارے بازار سے چلے جائیں۔مزید لکھا ہے کہ حضرت امام شافعی سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت عمر عید گاہ کے بازار میں حضرت حاطب کے پاس سے گزرے۔ان کے سامنے دو ٹوکریاں کشمش کی بھری پڑی تھیں۔حضرت عمرؓ نے ان سے ان کا نرخ پوچھا تو انہوں نے کہا دو مڈ ایک درہم میں دے رہا ہوں۔حضرت عمر نے ان سے کہا کہ مجھے طائف سے آنے والے قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آپ کے نرخ کا اعتبار کرتے ہیں۔یا تو آپ نرخ زیادہ کریں یا پھر گھر میں بیٹھ کر جیسے چاہیں بیچیں۔چنانچہ جب حضرت عمرؓ گھر آئے اور سوچ بچار کی تو پھر حضرت حاطب کے گھر ان سے ملنے گئے اور ان سے کہا جو کچھ میں نے آپ سے کہا تھا وہ میری طرف سے کوئی زبر دستی نہیں ہے اور نہ میری طرف سے وہ فیصلہ تھا۔میں نے یہ بات صرف شہریوں کی بھلائی کے لیے کی تھی۔آپ جہاں چاہیں بیچیں اور جتنے میں چاہیں بیچیں۔150 حضرت مصلح موعود اس بارے میں فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے مدینہ منورہ میں قیمتوں پر اسلامی حکومت تصرف رکھتی تھی۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے حضرت عمر یرضي اللہ عنہ ایک دفعہ مدینہ کے بازار میں پھر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک شخص حاطب بن ابی بلتعہ المصلی نامی بازار میں دو بورے سوکھے انگوروں کے رکھے بیٹھے تھے۔حضرت عمرؓ نے ان سے بھاؤ دریافت کیا تو انہوں نے ایک درہم کے دونڈ بتائے۔یہ بھاؤ بازار کے عام بھاؤ سے سنتا تھا۔اس پر آپ نے ان کو حکم دیا کہ اپنے گھر جا کر فروخت کریں مگر بازار میں وہ اِس قدر ستے نرخ پر فروخت نہیں کرنے دیں گے کیونکہ اس سے بازار کا بھاؤ خراب ہوتا ہے اور لوگوں کو بازار والوں پر بد ظنی پیدا ہوتی ہے۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”فقہاء نے اس پر بڑی بحثیں کی ہیں۔بعض نے ایسی روایات بھی نقل کی ہیں کہ بعد میں حضرت عمرؓ نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا تھا مگر