اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 227
تاب بدر جلد 4 227 بارے میں کیا رائے ہے۔بہت سارے عام مسلمانوں کے جانور بھی باہر کھلے میدانوں میں، چراگاہوں میں چرتے ہیں ان کے متعلق کیا رائے ہے ؟ آپ کا کیا ارشاد ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے۔یہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو جہاد کے لئے اپنے اونٹ اور گھوڑے تیار کر رہے ہیں۔حضرت بلال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول اس کمزور مرد یا کمزور عورت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس کے پاس قلیل تعداد میں بھیڑ بکریاں ہوں اور وہ انہیں منتقل کرنے پر قدرت نہ رکھتے ہوں۔بہت تھوڑی تعداد میں غریب لوگ ہیں چند ایک بکریاں یا بھیڑیں رکھی ہوئی ہیں دور تک لے جانا ان کے لئے بہت مشکل ہے یا کہیں اور بھی جا نہیں سکتے۔کمزور ہیں بوڑھے ہیں عورتیں ہیں تو آپ صلی اللہ یکم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو اور انہیں چرنے دو۔ان کو اجازت ہے۔غریبوں کو ، ضرورت مندوں کو ، کمزوروں کو اجازت ہے کہ وہ سرکاری چراگاہ سے چر سکتے ہیں۔تو قومی جائیداد صرف قومی مقاصد کے لئے استعمال ہونی چاہئے۔ہاں غریبوں کی اگر ذاتی ضرورت بھی ہے تو وہ اس میں سے حصہ لے سکتے ہیں۔وفات 543 حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی وفات 30 ہجری میں مدینہ میں 65 سال کی عمر میں ہوئی۔حضرت عثمان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔4 اخلاق و اوصاف 544 حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے کہ ان کے اخلاق کیا تھے۔مصنف سیر الصحابہ لکھتے ہیں: وفا شعاری۔بہت زیادہ وفا شعار تھے۔احسان پذیری اور صاف گوئی ان کے مخصوص اوصاف ہیں۔احباب اور رشتہ داروں کا بے حد خیال رکھتے تھے اور فتح مکہ کے موقع پر انہوں نے مشرکین کو جو خط لکھا تھا جو اس عورت کے ہاتھ بھیجا جس کا ذکر ہو چکا ہے وہ در حقیقت رشتہ داروں کے خیال کی وجہ سے انہی جذبات پر مبنی تھا۔چنانچہ رسول اللہ صلی علیم نے بھی اس نیت خیر اور صاف گوئی کو ملحوظ رکھ کر ان سے در گزر فرمایا تھا۔ان کو معاف فرما یا تھا۔545 ان کی وفات تیس ہجری میں پینسٹھ سال کی عمر میں مدینہ میں ہوئی۔حضرت عثمان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔546 ان کے بارے میں مزید لکھا ہے کہ حضرت ابو بکڑ نے بھی آپ کو مقوقس کے پاس مصر بھیجا اور ایک معاہدہ ترتیب دیا جو حضرت عمرو بن عاص کے حملہ مصر تک طرفین کے درمیان قائم رہا۔حضرت حاطب خوبصورت جسم کے مالک تھے۔ہلکی داڑھی تھی۔گردن جھکی ہوئی تھی۔پست 547