اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 220
ب بدر جلد 4 220 میں اس حالت میں یہاں آیا ہوں گویا کہ میری روح نکل رہی ہے۔میری جان نکل رہی ہے۔لگتا ہے جسم میں جان نہیں۔حضرت حاطب نے پھر آنحضرت صلی علیم سے عرض کیا کہ عقبہ کہاں ہے ؟ آپ صلی علیکم نے ایک طرف اشارہ کیا کہ فلاں طرف ہے۔حضرت حاطب اس کی طرف گئے۔وہ آدمی چھپا ہوا تھا یہاں تک کہ آپ اسے قابو کرنے میں کامیاب ہو گئے۔حضرت حاطب نے تلوار کے وار سے اس کا سر اتار دیا۔پھر آپ اس کا سر اور سامان اور اس کا گھوڑا پکڑ کر نبی کریم صلی الم کے پاس لے آئے۔آپ صلی میں ہم نے وہ سارا کچھ سامان حضرت حاطب کو دے دیا اور حضرت حاطب کے لئے دعا کی۔آپ نے فرمایا اللہ تجھ سے راضی ہو۔اللہ تجھ سے راضی ہو۔( دو دفعہ فرمایا) 532 شاہ مقوقس کے نام نبی اکرم صلی کم کاخط آنحضرت صلی ا لم نے جو خط مقوقس کو بھیجا تھا اس کی تفصیل میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے 533 534 لکھا ہوا ہے کہ یہ تیسر اخط تھا جو بادشاہوں کو بھیجا گیا۔3 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بیان فرمایا کہ چوتھا خط تھا۔4 بہر حال اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے سر بر اہوں اور بادشاہوں کو جو خط لکھے گئے تھے ان میں سے ایک خط مقوقس والی مصر کے نام بھی تھا جو قیصر کے ماتحت مصر اور اسکندریہ کا والی یعنی موروثی حاکم تھا اور قیصر کی طرح مسیحی مذہب کا پیرو تھا۔اس کا ذاتی نام جریج بن مینا تھا اور وہ اور اس کی رعایا قبطی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔یہ خط آپ صلی علی تم نے اپنے صحابی حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھ بھجوایا۔اور اس خط کے الفاظ یہ تھے: بسم اللہ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُوْلِهِ إِلَى الْمُقَوْقَسِ عَظِيمِ الْقِبْطِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي اَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تُسْلَمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْقِبْطِ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِن دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَا مُسْلِمُونَ۔یعنی میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بن مانگے رحم کرنے والا اور اعمال کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔یہ خط محمد خدا کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے قبطیوں کے رئیس مقوقس کے نام ہے۔سلامتی ہو اس شخص پر جو ہدایت کو قبول کرتا ہے۔اس کے بعد اے والی مصر ! میں آپ کو اسلام کی ہدایت کی طرف بلاتا ہوں۔مسلمان ہو کر خدا کی سلامتی کو قبول کرو کہ اب صرف یہی نجات کا رستہ ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو دوہرا اجر دے گا۔لیکن اگر آپ نے رُوگردانی کی تو (علاوہ خود آپ کے اپنے گناہ کے ) قبطیوں کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہو گا۔اور اے اہل کتاب ! اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی صورت میں خدا کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں اور خدا کو چھوڑ کر اپنے میں سے ہی کسی کو اپنا آقا اور حاجت روانہ گردانیں۔پھر اگر ان لوگوں نے روگردانی کی تو ان سے کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو بہر حال خدائے واحد