اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 204
اصحاب بدر جلد 4 204 عبد الرحمن بن عوف اور فرشتوں کا ساتھ حضرت حارث بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلی علی یکم نے مجھ سے جبکہ آپ صلی علیکم ایک گھاٹی میں تھے فرمایا کہ کیا تم نے عبد الرحمن بن عوف کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کی۔جی ہاں میں نے انہیں دیکھا ہے۔وہ پہاڑی کے پہلو میں تھے اور ان پر مشرکین کا لشکر حملہ آور تھا۔میں نے ان کی طرف رخ کیا تا کہ ان کو بچاؤں مگر پھر میری نظر آپؐ پر پڑی اور میں آپ کے پاس آگیا اور آپ صلی علیکم نے فرمایا کہ فرشتے اس کی حفاظت کر رہے ہیں یعنی عبد الرحمن بن عوف کی فرشتے حفاظت کر رہے ہیں۔ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی علیم نے فرمایا کہ فرشتے اس کی معیت میں لڑ رہے ہیں۔حضرت حارث کہتے ہیں کہ میں عبد الرحمن بن عوف کے پاس گیا۔پھر واپس ہو کے گیا۔جب جنگ خاتمے کو پہنچی تو میں نے دیکھا ان کے سامنے سات آدمی قتل ہوئے پڑے ہیں۔میں نے کہا کہ کیا آپ نے ان سب کو قتل کیا ہے ؟ اس پر عبد الرحمن نے کہا کہ ان تین کو تو میں نے قتل کیا ہے مگر باقیوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ ان کو کس نے قتل کیا ہے۔اس پر میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔یعنی کہ فرشتے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔بئر معونہ میں شہادت 507 حضرت حارث واقعہ بئر معونہ میں شریک ہوئے۔جس وقت یہ واقعہ ہوا اور صحابہ کو شہید کیا گیا اُس وقت حضرت حارث اور عمرو بن امیہ اونٹوں کو چرانے گئے ہوئے تھے۔سیرت ابن ہشام میں دو اصحاب عمرو بن امیہ اور حضرت مُنذر بن محمد کا درج ہے۔بہر حال بعض کتابوں کی روایت میں یہ تھے جو اونٹوں کو چرانے والے تھے۔بہر حال اس روایت کے مطابق جو یہ کہتی ہے کہ یہ تھے ، جب واپسی پر یہ اپنے پڑاؤ کی جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ پرندے وہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو انہوں نے سمجھ لیا کہ ان کے ساتھی شہید ہو چکے ہیں۔حضرت حارث نے حضرت عمرو سے کہا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ عمرو نے کہا کہ میرا خیال تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم کے پاس چلا جائے اور واپس جا کے خبر کی جائے۔حضرت حارث نے کہا کہ میں اس جگہ سے پیچھے نہیں رہوں گا جہاں مُنذر کو قتل کیا گیا ہے۔چنانچہ آپ آگے بڑھے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔508 حضرت عبد اللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ حارث کی شہادت دشمنوں کی طرف سے مسلسل پھینکے جانے والے نیزوں کی وجہ سے ہوئی تھی جو ان کے جسم میں پیوست ہو گئے تھے اور آپ شہید ہو گئے تھے۔19 509