اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 203

203 66 صحاب بدر جلد 4 حضرت حارث بن حمه ย حضرت حارث بن حلمہ۔حضرت حارث بن حلیمہ کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو نجار سے تھا اور 504 بئر معونہ کے روز یہ شہید ہوئے تھے۔آنحضور صلی لی ایم نے حارث اور حضرت صہیب بن سنان کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔505 جنگ میں شامل نہ ہو سکے لیکن رسول اکرم صلی ال یونین نے اموال غنیمت میں حصہ مقرر فرمایا حضرت حارث بن صمہ غزوہ بدر کے لئے رسول اللہ صلی اللی ایم کے ساتھ روانہ ہوئے۔جب الروحاء کے مقام پر پہنچے تو آپ میں مزید سفر کی طاقت نہ رہی۔رسول اللہ صلی ال ہم نے آپ کو مدینہ واپس بھیج دیا لیکن اموال غنیمت میں آپ کا حصہ بدر میں شامل ہونے والوں کی طرح مقرر فرمایا۔یعنی عملاً شامل نہیں ہوئے تھے لیکن ایک جذبہ کے تحت نکلے تھے لیکن صحت نے اجازت نہیں دی یا اس وقت زیادہ بیمار ہو گئے ہوں گے اس لئے واپس بھیجوا دئے گئے لیکن آپ کی نیت اور جذبے کو دیکھ کے آنحضرت صلی الم نے ان کو بدر میں شامل ہونے والے صحابہ میں شمار فرمایا۔غزوہ احد میں شمولیت اور شجاعت کا مظاہرہ، عثمان بن عبد اللہ جیسے خطرناک دشمن کو قتل کرنا آپ غزوہ احد میں شریک تھے۔اُس دن جب لوگ منتشر ہو گئے تو اس وقت حضرت حارث ثابت قدم رہے۔حضرت حارث نے آپ صلی علیہم سے موت پر بیعت کی۔آپ نے عثمان بن عبد اللہ بن مغیرہ مخزومی کو قتل کیا یعنی حضرت حارث نے اور سلب لے لیا یعنی جو اس کا جنگی لباس اور سامان تھا وہ لے لیا جس میں اس کی زرہ اور خود اور تلوار تھی۔رسول اللہ صلی للہ ہم نے وہ سامان آپ کو ہی عطا کیا۔رسول اللہ صلی ای کمر کو جب عثمان بن عبد اللہ کی ہلاکت کی خبر ہوئی تو فرمایا کہ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اسے ہلاک کیا۔عثمان بن عبد اللہ بڑا خطرناک دشمن تھا۔یہ ایک مشرک تھا اور غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی کم کو نقصان پہنچانے کی غرض سے پورے ہتھیاروں سے لیس ہو کر آیا تھا۔غزوہ احد کے روز رسول اللہ صلی لینینم نے دریافت فرمایا کہ میرے چا حمزہ کے ساتھ کیا ہوا ؟ حضرت حارث ان کی تلاش میں نکلے۔جب آپ کو دیر ہو گئی تو حضرت علی روانہ ہوئے اور حارث کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ حضرت حمزہ شہید ہو چکے ہیں۔دونوں صحابہ نے واپس آکر نبی کریم صلی للی نام کو اس شہادت کی خبر دی۔506