اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 196
اصحاب بدر جلد 4 196 اسلام کی تبلیغ کریں گے اور کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے پیغام کے ذریعہ سے ، ہماری تبلیغ کے ذریعہ سے ہمیں پھر جمع کر دے اور ہم جب اکٹھے ہو جائیں گے تو پھر ہر طرح آپ کی مدد کے لئے تیار ہوں گے۔چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے یثرب میں اسلام کا چر چاہونے لگا۔یہ سال آنحضرت صلی علیم نے مکہ میں یثرب والوں کی طرف سے ظاہری حالات اور اسباب کے لحاظ سے اس طرح گزارا جس میں خوف بھی تھا اور امید بھی تھی کہ دیکھیں یہ چھ مصدقین جو گئے ہیں، جنہوں نے بیعت کی ہے ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔آیا میٹر ب میں بھی کوئی کامیابی ملتی ہے، کوئی امید بنتی ہے یا نہیں۔کیونکہ باقی جگہ تو آنحضرت صلی الیکم کا نہ صرف بڑا انکار تھا بلکہ مخالفت بھی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔مکہ اور رؤسائے طائف آنحضرت صلی اللہ یلم کے مشن کو سختی سے رد کر چکے تھے اور دیگر قبائل بھی ان کے زیر اثر ایک ایک کر کے رڈ کر رہے تھے۔تو ان کی بیعت کی وجہ سے مدینہ میں ایک امید کی کرن پید ا ہوئی تھی لیکن اس کی بھی کوئی تسلی نہیں تھی۔کون کہ سکتا تھا کہ یہ چھ ماننے والے جن سے امید کی کرن پید اہوئی ہے اگر ان کے خلاف بھی دشمن کھڑ ا ہوا تو یہ مصیبتوں اور مشکلات کا مقابلہ کر سکیں گے۔بہر حال یہ گئے ، انہوں نے تبلیغ کی، لیکن اس دوران میں مکہ والوں کی طرف سے بھی دشمنی اور مخالفت روز بروز بڑھ رہی تھی اور وہ لوگ اس بات پہ پر یقین تھے کہ اسلام کو مٹانے کا اب یہی وقت ہے کیونکہ اگر مکہ سے باہر نکلنا شروع ہو گیا اور پھیلنا شروع ہو گیا تو پھر اسلام کو مٹانا مشکل ہو گا۔اس لئے مکہ والوں نے بھی مخالفت اپنے پورے زوروں پر کی ہوئی تھی۔لیکن اس کے باوجود آنحضرت صلی لی ایم اور آپ کے مخلص صحابہ جو تھے جنہوں نے بیعت کی تھی، مسلمان ہوئے تھے ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی بات پر قائم تھے۔کوئی بات ان کو اسلام کی تعلیم سے اور اسلام سے ہٹا نہیں سکتی تھی، توحید سے ہٹا نہیں سکتی تھی۔بہر حال اسلام کے لئے ایک بہت نازک وقت تھا اور امید بھی تھی، خوف بھی تھا کہ مدینہ میں یہ لوگ گئے ہیں تو دیکھیں ان کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔پھر اگلے سال مدینہ سے ایک وفد پھر حج کے موقع پر آیا تو آنحضرت صلی للی کم بڑے شوق کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور منی کی جانب عقبہ کے پاس پہنچ کر ادھر اُدھر نظر دوڑائی تو اچانک آپ کی نظر یثرب کی ایک چھوٹی سی جماعت پر پڑی جنہوں نے آپ کو دیکھ کر فوراً پہچان لیا اور نہایت محبت اور اخلاص سے آگے بڑھ کر آپ کو ملے۔ان میں سے پانچ تو وہی تھے جو پہلے بیعت کر کے گئے تھے اور سات نئے تھے اور یہ لوگ اوس اور خزرج دونوں قبیلوں میں سے تھے۔آنحضرت صلی ای ام اس موقع پر لوگوں سے الگ ہو کر ایک گھائی میں، ایک وادی میں ان کو ایک طرف لے گئے اور وہاں سے جو یہ بارہ افراد کا وفد آیا تھا انہوں نے آنحضرت صلی الم کو یثرب کے حالات کی اطلاع دی اور ان سب نے با قاعدہ آنحضرت صلی ال نیم کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہی بیعت جو تھی یثرب میں اسلام کے قیام کا بنیادی پتھر تھا۔آنحضرت صلی علی ایم نے ان سے جن الفاظ میں بیعت لی وہ یہ تھے کہ ہم خدا کو ایک جانیں گے۔شرک نہیں کریں گے۔چوری نہیں کریں گے۔زنا کے مرتکب نہیں ہوں گے۔قتل سے باز رہیں گے۔