اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 184
ناب بدر جلد 4 184 دے۔انہوں نے بلال سے کہا۔حضرت بلال نے انکار کر دیا کہ نہیں میں اب اذان نہیں دے سکتا۔بلال نے کہا کہ رسول کریم ملی ایم کے بعد میں اذان نہیں دوں گا کیونکہ جب بھی میں اذان دینے کا ارادہ کرتا ہوں تو رسول کریم صلی الم کا زمانہ مبارک میرے سامنے آجاتا ہے، میری جذباتی کیفیت ہو جاتی ہے اس لیے میں اذان نہیں دے سکتا۔میری برداشت سے یہ بات باہر ہو جاتی ہے۔حضرت عمررؓ بھی ان دنوں دمشق میں آئے ہوئے تھے اتفاق سے ان کا بھی دورہ تھا۔لوگوں نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ آپ بلال سے کہیے کہ اذان دے۔ہم میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی علیکم کو دیکھا ہے اور ہمارے کان ترس رہے ہیں کہ ہم بلال کی اذان سنیں۔رسول کریم صلی علیکم کا وہ زمانہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ہمارے تصورات میں حضرت بلال کی اذانیں آتی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ حقیقت میں بھی ایک دفعہ بلال کی اذان سنیں اور وہ زمانہ ہمارے سامنے ذرا اچھی طرح گھوم جائے۔ہم میں وہ بھی ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ لہر کا زمانہ نہیں دیکھا صرف باتیں سنی ہیں۔ایسے لوگ بھی وہاں موجود تھے ان کے دل خواہش رکھتے ہیں کہ اس شخص کی اذان سن لیں جس کی اذان رسول کریم صلی الم سنا کرتے تھے اور آپ کو پسند بھی تھی۔حضرت عمر نے بلال کو بلایا اور فرمایا لوگوں کی خواہش ہے کہ آپ اذان دیں۔آپؐ نے فرمایا آپ خلیفہ وقت ہیں آپ کی خواہش ہے تو میں اذان دے دیتا ہوں لیکن یہ بتادوں میں کہ میرا دل برداشت نہیں کر سکتا۔حضرت بلال کھڑے ہو جاتے ہیں اور بلند آواز سے اسی رنگ میں اذان دیتے ہیں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی علیم کے زمانہ میں اذان دیا کرتے تھے۔رسول کریم صلی علی نام کے زمانہ کو یاد کر کے آپ کے صحابہ جو عرب کے باشندے تھے یہ اذان سنتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور بعض کی چیخیں بھی نکل گئیں۔حضرت بلال اذان دیتے چلے جاتے ہیں اور سننے والوں کے دلوں پر رسول کریم صلی علیم کے زمانے کو یاد کر کے رقت طاری ہو جاتی ہے لیکن حضرت بلال جو حبشی تھے ، جن سے عربوں نے خدمتیں لیں، جنہیں عربوں سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا اور نہ بھائی چارے کا تعلق تھا ہم نے دیکھنا ہے کہ خود ان کے دل پر کیا اثر ہوا۔یہ تو اثر ہوا ناں ان عربوں کا جو آنحضرت صلی علیم کے زمانے کے تھے، ان کو زمانہ یاد آگیا۔جو اس زمانے کے عرب نہیں تھے ان کو بھی وہ باتیں یاد آگئیں، رقت طاری ہو گئی یا ایک دوسرے کو دیکھ کے رقت طاری ہوئی لیکن حضرت بلال تو جو عرب بھی نہیں تھے غلام بھی تھے ان کو اس اذان کا کیا اثر ہوا۔کہتے ہیں کہ حضرت بلال جب اذان ختم کرتے ہیں تو بیہوش ہو جاتے ہیں۔یہ اثر ہوتا ہے اور چند منٹ بعد فوت ہو جاتے ہیں۔یہ گواہی تھی غیر قوموں کی رسول کریم صلی الم کے اس دعویٰ پر کہ میرے نزدیک عرب اور غیر عرب میں کوئی فرق نہیں ہے۔یہ محبت اور یہ عشق سب سے بڑی گواہی ہے جو غیر عرب قوموں نے آپ کے لیے دکھایا۔یہ ہے وہ سچی گواہی، عملی گواہی کہ آنحضرت صلی الم نے جو فرمایا کہ عرب اور غیر عرب میں کوئی فرق نہیں تو یہ ہے اس کا اظہار۔یہ گواہی الله