اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 175
ناب بدر جلد 4 175 سلام کرنے کے لیے حاضر ہو چکے تھے۔ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ بلال آئے۔وہی بلال جو غلام رہ چکے تھے ، جن کو لوگ مارا پیٹا کرتے تھے، جن کو کھردرے اور نوکیلے پتھروں پر ننگے جسم سے گھسیٹا کرتے تھے ، جن کے سینے پر بڑے بڑے وزنی پتھر رکھ کر کہا کرتے تھے کہ کہو میں لات اور عزیٰ کی پرستش کروں گا مگر وہ یہی کہتے تھے کہ اَشْهَدُ اَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللہ۔حضرت عمرؓ نے جب بلال کو دیکھا تو ان رؤساء سے فرمایا: ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور بلال کو بیٹھنے کی جگہ دو۔ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ ایک اور غلام صحابی آگئے۔حضرت عمر نے پھر ان رؤساء سے فرمایا: ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کو بیٹھنے دو۔تھوڑی دیر گزری تھی تو ایک اور غلام صحابی آگئے۔حضرت عمرؓ نے حسب معمول ان رؤساء سے پھر فرمایا کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کو بیٹھنے کی جگہ دو۔اتفاق کی بات ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل کرنا تھا اس لیے یکے بعد دیگرے آٹھ دس غلام آگئے اور ہر دفعہ حضرت عمران رؤساء سے یہی کہتے چلے گئے کہ پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کو بیٹھنے کی جگہ دو۔ان دنوں بڑے بڑے ہال نہیں بنائے جاتے تھے بلکہ معمولی کو ٹھڑیاں ہوتی تھیں جن میں زیادہ آدمی نہیں بیٹھ سکتے تھے۔جب تمام غلام صحابہ کمرے میں بھر گئے تو مجبوراً ان رؤساء کو جو تیوں والی جگہ میں بیٹھنا پڑا۔یہ ذلت ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی۔وہ اسی وقت اٹھے اور باہر آکر ایک دوسرے سے کہنے لگے۔دیکھا ! آج ہمیں کیسا ذلیل کیا گیا ہے۔یہ غلام جو ہماری خد متیں کیا کرتے تھے ان کو تو اوپر بٹھایا گیا ہے مگر ہمیں پیچھے بٹنے پر مجبور کیا گیا ہے یہاں تک کہ ہٹتے ہٹتے ہم جو تیوں والی جگہ پر جا پہنچے اور سب لوگوں کی نگاہ میں ذلیل اور رسوا ہوئے۔ایک شخص جو ان میں سے زیادہ سمجھدار تھا جب اس نے یہ باتیں سنیں تو کہا یہ ٹھیک ہے کہ ہماری رسوائی ہوئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کس کی کرتوتوں سے ہوا۔ہمارے باپ بھائی جب محمد رسول اللہ صلی علیہ یکم اور ان کے ساتھیوں کو مارا پیٹا کرتے تھے اس وقت یہ غلام آپ پر اپنی جانیں فدا کیا کرتے تھے۔آج چونکہ محمد رسول اللہ صلی علیکم کی حکومت ہے اس لیے تم خود ہی فیصلہ کر لو کہ ان کو ماننے والے کن لوگوں کو عزت دیں گے۔آیا تم کو جو مارا کرتے تھے یا ان غلاموں کو جو اپنی جانیں اسلام کے لیے قربان کیا کرتے تھے۔اگر انہی کو عزت ملنی چاہیے تو پھر تمہیں آج کے سلوک پر شکوہ کیوں پیدا ہوا؟ تمہارے اپنے باپ دادا کے اعمال کا یہ نتیجہ ہے کہ تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں ہو رہا جو غلاموں کے ساتھ ہو رہا ہے۔یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں آگئی۔جب ایک عظمند شخص نے یہ بات کہی تو کہنے لگے ہم حقیقت کو سمجھ گئے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس رسوائی کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں۔بیشک ہمارے باپ دادا سے بڑا قصور ہوا ہے مگر آخر اس قصور کا کوئی علاج بھی ہونا چاہیے جس سے یہ ذلت کا داغ ہماری پیشانی سے دھل سکے۔اس پر سب نے فیصلہ کیا کہ ہماری سمجھ میں تو کوئی بات نہیں آتی۔چلو حضرت عمرؓ سے ہی پوچھیں کہ اس رسوائی کا کیا علاج ہے۔جب وہ دوبارہ حضرت عمر کے پاس گئے۔اس وقت تک مجلس برخاست ہو چکی تھی اور صحابہ سب جاچکے تھے۔انہوں نے حضرت عمر سے کہا کہ آج ہمیں اس مجلس میں آکر جو دکھ پہنچا ہے اس کے متعلق ہم آپ سے مشورہ