اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 163
اصحاب بدر جلد 4 163 اعلان یا اذان و غیرہ کا انتظام نہیں تھا۔صحابہ عموماً وقت کا اندازہ کر کے خود نماز کے لیے جمع ہو جاتے تھے لیکن یہ صورت کوئی قابل اطمینان نہیں تھی۔اب مسجد نبوی کے تیار ہو جانے پر یہ سوال زیادہ محسوس طور پر پیدا ہوا کہ کس طرح مسلمانوں کو وقت پر جمع کیا جاوے۔کسی صحابی نے نصاریٰ کی طرح ناقوس کی رائے دی۔کسی نے یہود کی مثال میں بوق کی تجویز پیش کی۔کسی نے کچھ کہا مگر حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کر دیا جاوے کہ وہ نماز کے وقت یہ اعلان کر دیا کرے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔آنحضرت صلی ا ہم نے اس رائے کو پسند فرمایا اور حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ اس فرض کو ادا کیا کریں۔چنانچہ اس کے بعد جب نماز کا وقت آتا تھا بلال بلند آواز سے الصَّلوةُ جَامِعَةٌ کہہ کر پکارا کرتے تھے اور لوگ جمع ہو جاتے تھے بلکہ اگر نماز کے علاوہ بھی کسی غرض کے لیے مسلمانوں کو مسجد میں جمع کرنا مقصود ہو تا تھا تو یہی ندادی جاتی تھی۔اس کے کچھ عرصہ کے بعد ایک صحابی عبد اللہ بن زید انصاری کو خواب میں موجودہ اذان کے الفاظ سکھائے گئے اور انہوں نے آنحضرت صلی علی یکم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اس خواب کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں ایک شخص کو اذان کے طریق پر یہ یہ الفاظ پکارتے سنا ہے۔آپ نے فرمایا یہ خواب خدا کی طرف سے ہے اور عبد اللہ کو حکم دیا کہ بلال کو یہ الفاظ سکھا دیں۔عجیب اتفاق یہ ہوا کہ جب بلال نے الفاظ میں پہلی دفعہ اذان دی تو حضرت عمرؓ سے سن کر جلدی جلدی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یار سول اللہ ! آج جن الفاظ میں بلال نے اذان دی ہے بعینہ یہی الفاظ میں نے بھی خواب میں دیکھے ہیں۔اور ایک روایت میں یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی علیم نے اذان کے الفاظ سنے تو فرمایا کہ اسی کے مطابق وحی بھی ہو چکی ہے۔الغرض اس طرح موجودہ اذان کا طریق جاری ہو گیا اور جو طریق اس طرح جاری ہو اوہ ایسا مبارک اور دلکش ہے کہ کوئی دوسرا طریق اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔گویا ہر روز پانچ وقت اسلامی دنیا کے ہر شہر اور ہر گاؤں میں ہر مسجد سے خدا کی توحید اور محمد رسول اللہ کی رسالت کی آواز بلند ہوتی ہے اور اسلامی تعلیمات کا خلاصہ نہایت خوبصورت اور جامع الفاظ میں لوگوں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔موسیٰ بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت بلال اذان دے کر فارغ ہو کر نبی کریم ملی کم کو اطلاع دینا چاہتے تو آپ کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور کہتے حَتى عَلَى الصَّلوة حَتَّى عَلَى الْفَلَاحِ الصَّلَوةُ يَا رَسُولَ اللهِ یعنی نماز کے لیے آئیے ، فلاح و کامیابی کے لیے آئیے۔نماز، یارسول اللہ۔جب رسول اللہ صلی اللی کم نماز کے لیے نکلتے اور حضرت بلال دیکھ لیتے تو اقامت شروع کر دیتے۔416 یہ واضح نہیں ہے۔اقامت تو اسی وقت ہو گی جب امام محراب میں آجائے۔بہر حال جو بھی ہے۔روایت کا صحیح ترجمہ نہیں ہے یا یہ بیان صحیح نہیں ہے لیکن اصل طریق وہی ہے جو محراب میں امام آجائے تو پھر اقامت ہو۔سة 415❝