اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 162
اصحاب بدر جلد 4 162 اذیت دی گئی جتنی کسی کو نہیں دی جاسکتی۔مجھے اللہ کی خاطر اتناڈرایا گیا ہے جتنا کسی کو نہیں ڈرایا جا سکتا۔اور مجھ پر تیسری رات آجاتی کہ میرے اور بلال کے پاس کوئی ایسا کھانا نہ ہوتا جسے کوئی جاندار کھا سکے مگر اتنا جسے بلال کی بغل چھپا سکتی۔بہت تھوڑا معمولی کھانا ہو تا تھا۔412 سب سے پہلا موذن حضرت بلال کو سب سے پہلا مؤذن ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا۔حضرت بلال رسول اللہ صلی علی تیم کی ساری زندگی میں ان کے لیے سفر و حضر میں مؤذن رہے اور آپ اسلام میں پہلے شخص تھے جنہوں نے 413 اذان دی۔اذان کی ابتداء محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الیم نے نماز کے بلانے کے لیے بنگل کا سوچا۔پھر ناقوس کا ارشاد فرمایا۔پس وہ بنایا گیا۔یہ بخاری کی حدیث ہے اور اس کے مطابق بوق اور ناقوس کے استعمال کا مشورہ صحابہ نے دیا تھا۔پھر حضرت عبد اللہ بن زید کو خواب دکھائی گئی۔انہوں نے بتایا کہ میں نے خواب میں ایک آدمی دیکھا جس پر دوسبز کپڑے تھے اور وہ آدمی ناقوس اٹھائے ہوئے تھا۔میں نے اس کو خواب میں ہی کہا اے اللہ کے بندے اتم یہ ناقوس فروخت کرو گے ؟ اس نے کہا تم اس سے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا میں اس کے ذریعے نماز کے لیے بلایا کروں گا۔اس نے کہا کیا میں تجھے اس سے بہتر نہ بتاؤں۔میں نے کہا وہ کیا ہے؟ اس نے پھر وہ اذان کے الفاظ سنائے اللهُ أَكْبَرُ اللهُ اکبر اور پوری اذان أَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنَّ محمَّدًا رَسُولُ اللهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلهَ إِلَّا الله - راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زید نکلے اور وہ رسول اللہ صلی علی کریم کے پاس آئے اور حضور صلی للی کم کو اپنی رؤیا بتائی۔انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے خواب میں ایک آدمی دیکھا۔اس پر دو سبز کپڑے تھے۔وہ ناقوس اٹھائے ہوئے تھا۔پھر ساری بات آپ کے سامنے بیان کی۔رسول اللہ صلی ایم نے صحابہ سے فرمایا۔تمہارے دوست نے رؤیا دیکھی ہے۔پھر عبد اللہ بن زید کو ارشاد فرمایا تم بلال کے ساتھ مسجد جاؤ اور اسے یہ کلمات بتاتے جاؤ اور وہ ان کو بلند آواز سے پکاریں کیونکہ تمہاری نسبت وہ زیادہ بلند آواز والے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن زید نے کہا کہ میں بلال کے ساتھ مسجد کی طرف گیا اور میں انہیں یہ کلمات بتاتا جاتا اور وہ بلند آواز کے ساتھ پکارتے جاتے۔حضرت عمر بن خطاب نے آواز سنی۔وہ باہر تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ !خدا کی قسم میں نے بھی خواب میں وہی دیکھا جو انہوں نے دیکھا۔414 اس کو بیان کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ: ”ابھی تک نماز کے لیے