اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 155
اصحاب بدر جلد 4 155 حضرت ابو بکر کا خرید کر آزاد کروانا ن الله ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت بلال ایمان لائے تو حضرت بلال کو ان کے مالکوں نے پکڑ کر زمین پر لٹا دیا اور ان پر سنگریزے اور گائے کی کھال ڈال دی اور کہنے لگے تمہارا رب لات اور مذی ہے مگر آپ احد احد ہی کہتے تھے۔ان کے مالکوں کے پاس حضرت ابو بکر آئے اور کہا کہ کب تک تم اس شخص کو تکلیف دیتے رہو گے۔حضرت ابو بکر نے حضرت بلال کو سات اوقیہ میں خرید کر انہیں آزاد کر دیا۔اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے یعنی دو سو اسی درہم میں۔پھر حضرت ابو بکر نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی ال نیم کی خدمت میں بیان کیا تو آپ صلی علی رام نے فرمایا اے ابو بکر امجھے بھی اس میں شریک کر لو۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے اسے آزاد کر دیا۔393 حضرت ابو بکر نے حضرت بلال کو خرید کر اللہ کی راہ میں آزاد کیا تھا اور خرید کے متعلق جیسا کہ پہلے ذکر کیا ہے دو سو اسی درہم۔بعض روایات کے مطابق حضرت ابو بکر نے انہیں پانچ اوقیہ یعنی دو سو درہم میں ، بعض کے مطابق سات اوقیہ دو سو اسی درہم اور بعض کے مطابق نو اوقیہ تین سو ساٹھ درہم میں خریدا تھا۔394 ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت ابو بکر نے حضرت بلال کو خریدا تو وہ پتھروں میں دبے ہوئے تھے۔حضرت ابو بکر نے سونے کے پانچ اوقیہ کے بدلے ان کو خریدا۔لوگوں نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ اگر آپ صرف ایک اوقیہ دینے پر بھی راضی ہوتے یعنی چالیس درہم تو ہم ایک اوقیہ میں بھی اس کو بیچ دیتے۔اس پر حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا اگر تم اس کو سو اوقیہ یعنی چار ہزار درہم میں بھی بیچنے کو تیار ہوتے تو میں سو اوقیہ میں بھی اس کو خرید لیتا۔395 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر نے سات ایسے غلاموں کو آزاد کروایا جنہیں تکالیف دی جاتی تھیں۔ان میں حضرت بلال اور حضرت عامر بن فهيرة "شامل تھے۔396 حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر کہا کرتے تھے کہ ابو بکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا۔397 حضرت مصلح موعود کی بیان کردہ تفصیل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی حضرت بلال کو دی جانے والی تکالیف اور حضرت ابو بکر کا آپ کو آزاد کرانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : یہ غلام جو رسول کریم صلی علی کم پر ایمان لائے مختلف اقوام کے تھے۔ان میں حبشی بھی تھے جیسے بلال۔رومی بھی تھے جیسے صہیب۔پھر ان میں عیسائی بھی تھے جیسے جبیر اور صہیب اور مشرکین بھی تھے جیسے بلال اور عمار بلال کو ان کے مالک تپتی ریت پر لٹا کر اوپر یا تو پتھر رکھ دیتے یا نوجوانوں کو سینے پر