اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 153
اصحاب بدر جلد 4 153 پھر رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا کہ یہ کہا کرو کہ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ فَجِيْدٌ۔اور سلام اس طرح جیسا کہ تم جانتے ہو کس طرح سلام کرنا ہے۔3 383 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِك وَسَلّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ فَجِيلٌ - 384 46 سابق الحبشہ ، نبی کریم کے خزانچی ، موذن رسول، نقیب رسول صلی ا ونم سیدنا حضرت بلال بن رباح ”اے کاش! میں بلال کی ماں کے بطن سے پید اہو تا۔“حضرت ابو بکر نام و نسب و کنیت حضرت بلال بن رباح۔حضرت بلال کے والد کا نام رباح تھا اور والدہ کا نام حمامہ۔حضرت بلال اُمیہ بن خلف کے غلام تھے۔حضرت بلال کی کنیت ابو عبد اللہ تھی جبکہ بعض روایات میں ابو عبد الرحمن اور ابو عبد الکریم اور ابو عمرو بھی مذکور ہے۔حضرت بلال کی والدہ حبشہ کی رہنے والی تھیں لیکن والد سر زمین عرب سے ہی تعلق رکھتے تھے۔محققین نے لکھا ہے کہ وہ حبشی سامی نسل سے تعلق رکھتے تھے یعنی قدیم زمانے میں سامی یا بعض عربی قبیلے افریقہ میں جا کر آباد ہو گئے تھے جس کے باعث ان کی نسلوں کے رنگ تو افریقہ کی دوسری اقوام کی طرح ہو گئے لیکن وہاں کی خاص علامات اور عادات ان میں ظاہر نہ ہوئیں۔بعد میں ان میں سے بعض لوگ غلام بن کر عرب واپس لوٹ گئے۔چونکہ ان کا رنگ سیاہ تھا اس لیے عرب انہیں حبشی یعنی حبشہ کے رہنے والے ہی سمجھتے تھے۔ایک روایت کے مطابق حضرت بلال مکہ میں پیدا ہوئے اور مُوَلَّدین میں سے تھے۔مُوَلَّدین ان لوگوں کو کہتے تھے جو خالص عرب نہ ہوں۔ایک دوسری روایت کے مطابق آپ سُتراۃ میں پید اہوئے اور شتراق یمن اور حبشہ کے قریب ہے جہاں مخلوط نسل کثرت سے پائی جاتی ہے۔385 حضرت بلال کا رنگ گندم گوں سیاہی مائل تھا۔دبلا پتلا جسم تھا۔سر کے بال گھنے تھے اور رخساروں