اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 150

اصحاب بدر جلد 4 150 بازو کھل گئے اور آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا خدا اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے جو ان کفار کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرے۔یعنی کفار تو یہ باتیں کر رہے ہیں انہوں نے جو کہا وہ باتیں آپ تک پہنچیں لیکن تم اپنی قوت کا اظہار کرو۔اس طرح قوت کا اظہار کہ تمہارے یہ کمزور جسم نہ نظر آئیں بلکہ مضبوط جسم نظر آئیں یا چوڑے شانے نظر آئیں پھر آپ صلی علی یم نے اپنے اصحاب کے ساتھ شروع کے تین پھیروں میں شانوں کو ہلا ہلا کر خوب اکڑتے ہوئے چل کر طواف کیا۔اس کو عربی زبان میں در مل کہتے ہیں۔چنانچہ یہ سنت آج تک باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی کہ ہر طواف کعبہ کرنے والا شروع طواف کے تین پھیروں میں رمل کرتا ہے۔تو یہ ہے وجہ اس طرح پہلے چلنے کی۔373 نبی اکرم صلی ا ولم نے کتنے عمرے کئے؟ آنحضرت صلی الم نے کتنے عمرے کئے ؟ اس کے بارے میں جو بخاری کی حدیث ہے، راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ نبی صلی یہ ہم نے کتنے عمرے کئے تھے تو انہوں نے کہا کہ چار۔عمرہ حدیبیہ جو ذوالقعدہ میں کیا، گویا عمرہ تو نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کو عمرہ اس لیے گنا جاتا ہے کہ وہاں قربانی وغیرہ کرلی تھی۔سر منڈھ لئے تھے اور اس لحاظ سے اس کو بعض لوگوں نے شمار کر لیا۔پھر کہتے ہیں دوسرا جب مشرکوں نے آپ کو روکا تھا صلح حدیبیہ میں تو یہ ایک عمرہ ہو گیا۔وہ عمرہ دوسرے سال ذی القعدہ میں ہو ا یعنی جو دوسر اعمرہ تھا۔پہلے سال تو حدیبیہ کا اصل میں نہیں ہو سکا۔سوائے قربانی وغیرہ کے اور دوسر اعمرہ ذی القعدہ میں دوسرے سال ہو ا جب آپ نے ان سے صلح کی اور پھر آگے لکھا ہے کہ عمرہ جغرانہ جب آپ نے مال غنیمت تقسیم کیا۔یہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ جنگ حنین کی غنیمت تھی، اس وقت بھی عمرہ کیا تو میں نے کہا آپ نے کتنے حج کئے ؟ راوی نے پوچھا۔انہوں نے کہا حج ایک ہی کیا تھا اور حج کے موقع پر بھی عمرہ ادا کیا تھا اس طرح بعض لوگ چار عمرے گنتے ہیں بعض دو گنتے ہیں۔374 حضرت ابو بکر کی بیعت کرنے والے پہلے انصاری حضرت بشير بن سعد انصار کے پہلے شخص تھے جنہوں نے حضرت ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر سقیفہ بنو ساعدہ کے دن بیعت کی تھی۔سقیفہ بنو ساعده 375 لله 376 سقیفہ بن ساعدہ کیا ہے؟ اس کے بارے میں لکھا ہے کہ مدینہ میں یہ بنو خزرج کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔بہر حال یہ کمرہ تھا یا اس زمانے کے لحاظ سے شیڈ (shade) ڈالا ہو اتھا۔نبی کریم صلی ا لنی کیم کی وفات کے بعد یہاں پر سقیفہ بنی ساعدہ میں بنو خزرج کا نبی کریم صلی اللہ ہی کی جانشینی کے حوالے سے ایک اجلاس جاری تھا۔اس اجلاس کی خبر حضرت عمر کو دی گئی اور ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ منافقین اور انصار کے باعث کوئی فتنہ نہ پھیل جائے۔اس پر حضرت عمر فاروقی حضرت ابو بکر کو لے کر سقیفہ بنی ساعدہ چلے گئے۔