اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 149

اصحاب بدر جلد 4 عمرہ قضاء اور ہتھیاروں کے نگران 149 371 رسول اللہ صلی علیہ کم جب عمرہ قضاء کے لئے ذی القعدہ 7 ہجری میں روانہ ہوئے تو آپ نے ہتھیار آگے بھیج دیئے تھے اور ان پر حضرت بشیر بن سعد کو نگران مقرر فرمایا۔1 عمرہ قضاء کی تفصیل یہ ہے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی وجہ سے وہاں عمرہ تو نہیں ہو سکا تھا اور ایک اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ آئندہ سال آنحضور صلی علی کم کہ آکر عمرہ ادا کریں گے اور تین دن مکہ میں ٹھہریں گے۔372 اس دفعہ کے مطابق، اس شق کے مطابق ماہ ذوالقعدہ 7 ہجری میں آپ صلی یم نے عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ روانہ ہونے کا عزم فرمایا اور اعلان کر دیا کہ جو لوگ گذشتہ سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب میرے ساتھ چلیں گے۔چنانچہ بجز ان لوگوں کے جو جنگ خیبر میں شہید یا وفات پاچکے تھے سب نے یہ سعادت حاصل کی اور کچھ کو ہتھیاروں کے ساتھ آگے بھیج دیا۔اب یہ ہے کہ عمرہ پہ جانے کے لئے ہتھیاروں کی کیا ضرورت تھی ؟ اس بارے میں جو تفصیل ملتی ہے وہ یہ ہے کہ حضور صلی یم کو چونکہ کفار مکہ پر بھروسہ نہیں تھا کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں گے اس لئے آپ صلی علیم نے جنگ کی پوری تیاری کے ساتھ ، اپنے جو ہتھیار لے جاسکتے تھے وہ لے کر گئے اور بوقت روانگی ایک صحابی کو آپ مسلی ہی ہم نے ابور ھم غفاری کو مدینہ پر حاکم بنادیا اور دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ جن میں ایک سو گھوڑوں پر سوار تھے صلی اسلم مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ساٹھ اونٹ قربانی کے لئے ساتھ تھے۔جب کفار مکہ کو خبر ملی کہ حضور صلی اللہ کم ہتھیاروں اور سامان جنگ کے ساتھ مکہ آرہے ہیں تو وہ بہت گھبر ائے اور انہوں نے چند آدمیوں کو صورتحال کی تحقیقات کے لئے مز الظهران تک بھیجا۔محمد بن مسلمہ جو اسپ سواروں کے افسر تھے قریش کے قاصدوں نے ان سے ملاقات کی۔انہوں نے اطمینان دلایا کہ نبی کریم صلیالی کی صلح نامہ کی شرط کے مطابق بغیر ہتھیار کے مکہ میں داخل ہوں گے۔یہ سن کر کفار جو تھے مطمئن ہو گئے۔چنانچہ حضور صلی الم جب مقام يَأْجج میں پہنچے جو مکہ سے آٹھ میل دور ہے تو تمام ہتھیاروں کو اس جگہ رکھ دیا اور بشیر بن سعد کی ماتحتی میں چند صحابہ کرام کو ان ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے متعین فرما دیا اور اپنے ساتھ ایک تلوار کے سوا کوئی ہتھیار نہیں رکھا اور صحابہ کرام کے مجمع کے ساتھ لبیک پڑھتے ہوئے حرم کی طرف بڑھے۔کہا جاتا ہے کہ جب رسول کریم صلی یک خاص حرم میں، کعبہ میں داخل ہوئے تو کچھ کفار جو تھے قریش کے مارے جلن کے اس منظر کو دیکھ نہ سکے اور پہاڑوں پر چلے گئے کہ ہم نہیں دیکھ سکتے مسلمان اس طرح طواف کر رہے ہوں۔مگر کچھ کفار اپنے دار الندوۃ جو ان کے مشورے کا ایک کمیٹی گھر تھا اس میں جمع ہو گئے ، وہاں کھڑے ہو کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے توحید ورسالت کے نشے سے مست یہ جو مسلمان لوگ تھے ان کے طواف کا نظارہ کرنے لگے اور آپس میں کہنے لگے کہ یہ مسلمان بھلا کیا طواف کریں گے۔ان کو تو بھوک اور مدینہ کے بخار نے کچل کر رکھ دیا ہے۔بہت کمزور قسم کے یہ لوگ ہیں۔حضور صلی علیم نے مسجد حرام میں پہنچ کر اضطباع کر لیا یعنی چادر کو اس طرح اوڑھ لیا کہ آپ کا داہنا شانہ اور صا التربية