اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 134

ناب بدر جلد 4 134 تھے ، مقرر فرمائے یا تبدیلیاں کیں وہ یہاں سے " دشمن کی حرکات و سکنات کی معلومات کے لئے بدر کی طرف دو آدمیوں کو بھیجنا اسی مقام سے آپ نے بسيس ( یعنی بشبس) اور عدی نامی دو صحابیوں کو دشمن کی حرکات و سکنات کا علم حاصل کرنے کے لئے بدر کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ وہ بہت جلد خبر لے کر واپس 34311 دو ہفتے پہلے خطبہ میں حضرت عدی بن آبی زغباء کے ذکر میں اس واقعہ کا ذکر ہو چکا ہے۔جن کو بھیجا گیا تھا ان میں حضرت بسبس اور حضرت عدی بن ابی زغباء دونوں شامل تھے۔جب یہ بدر کے مقام پر خبر لینے کے لئے پہنچے تو وہاں حضرت بسبس بن عمر و اور عدی بن ابی زغباء نے کنوئیں کے قریب ایک ٹیلے کے پاس اپنے اونٹ بٹھا کر اپنی مشکیں لیں اور کنوئیں سے پانی بھرا اور وہاں پیا بھی۔اس دوران انہوں نے وہاں دو عورتوں کو باتیں کرتے سنا جو کسی قافلے کے آنے کے بارے میں باتیں کر رہی تھیں۔344 ابو سفیان کا بدر کے مقام پر پہنچنا سے قانہ رہ - اور وہاں ایک شخص بھی کھڑا تھا۔بہر حال یہ دونوں واپس آئے اور آنحضرت صلی ا ہم کو ان عورتوں کی باتوں کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک قافلے کیے آنے کے بارے میں اس طرح باتیں کر رہی تھیں۔وہ شخص جو وہاں کھڑا تھا اس کا نام تجدی تھا۔( یہ تفصیل میں پہلے بیان کر چکا ہوں) تو مورخ لکھتے ہیں کہ اگلی صبح ابو سفیان وہاں پہنچا جبکہ قافلہ بھی وہاں آیا ہوا تھا۔اس نے قندی سے پوچھا کہ اسے مجدی! کیا تو نے ایسے کسی شخص کو دیکھا ہے جو یہاں جاسوسی کے لئے آیا ہو ؟ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر تو ہم سے دشمن کا حال چھپائے گا تو قریش میں سے کبھی کوئی بھی شخص تجھ سے صلح نہیں کرے گا۔مسجدی نے کہا یعنی وہ شخص جو کھڑ ا تھا بخدا میں نے یہاں کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کو میں نہ پہچانتا ہوں۔یہاں سے تیرے اور میثرب کے درمیان کوئی دشمن نہیں ہے اور اگر کوئی ہو تا تو وہ مجھ اور نہ ہی میں تجھ سے اس کو چھپاتا۔وہ کہتا ہے مگر ہاں یہ ہے کہ میں نے دو سواروں کو دیکھا تھا۔وہ اس جگہ ر کے تھے اور اُس جگہ اشارہ کیا جہاں حضرت بسبس اور حضرت عدی رکے تھے اور انہوں نے اپنے اونٹ بٹھائے تھے۔کہنے لگا کہ انہوں نے یہاں اپنے اونٹ بٹھائے تھے ، پانی پیا تھا اور پھر یہاں سے چلے گئے۔ابو سفیان اس جگہ پر آیا جہاں دونوں صحابہ نے اونٹ بٹھائے تھے اور ان دونوں کے اونٹوں کی مینگنیاں اٹھا کر توڑنے لگا۔اس لیے کہ تجسس تھا۔تو پہچان کے لئے یہ بھی توڑنے لگا۔جب اس نے توڑی تو اونٹ کی مینگنیوں میں سے کھجور کی گٹھلی نکلی تو ابوسفیان بولا بخد !!! اہل یثرب کے اونٹوں کا یہی چارا ہے۔یہ تو وہاں سے آئے ہیں۔یہ دونوں محمد صلی للی کم اور اصحاب محمد کے جاسوس تھے۔یعنی دونوں جو شخص آئے تھے یہ تو مدینے سے آئے ہیں اور یہ جاسوس ہیں۔اونٹ کی مینگنیوں سے مجھے یہ اندازہ لگ گیا ہے کہ کیوں