اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 126
126 39 صحاب بدر جلد 4 حضرت اوس بن خولی انصاری رسول اکرم علی ایم کی تجہیز و تدفین میں شمولیت کا اعزاز پانے والے نام و نسب و کنیت حضرت آؤس بن خولی انصاری ان کی کنیت ابولیلی تھی۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سالم بن غنم بن عوف سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام جمیلہ بنت ابی تھا جو عبد اللہ بن ابی بن سلول کی بہن تھیں۔آپ کی ایک بیٹی تھیں جن کا نام فسخم تھا۔تمام غزوات میں شمولیت آپ غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ شریک ہوئے۔رسول اللہ صلی علیم نے آپ کی مواخات حضرت شجاع بن وهب الاسدی سے کروائی۔کاملین میں شمار حضرت اوس بن خولی کا شمار کاملین میں ہوتا تھا۔جاہلیت اور ابتدائے اسلام میں کامل اس شخص کو کہا جاتا تھا جو عربی لکھنا جانتا ہو۔تیراندازی کرنا اچھی طرح جانتا ہو اور تیرا کی جانتا ہو۔اچھی طرح تیر نا جانتا ہو۔یہ تین باتیں اس میں ہوں تو اس کو کامل کہتے تھے اور یہ سب باتیں حضرت اوس بن خولی میں موجود تھیں۔324 خشک کنواں پانی سے بھر گیا حضرت ناجيه بن انجم روایت کرتے ہیں کہ جب حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی نیم کی خدمت میں پانی کی قلت کی شکایت کی گئی تو انہوں نے مجھے بلایا اور اپنی ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور مجھے دیا۔پھر کنویں کا پانی ایک ڈول میں منگوایا۔میں اس کو لے کر آیا۔آپ نے وضو فرمایا اور کلی کر کے ڈول میں انڈیل دیا جبکہ لوگ سخت گرمی کی حالت میں تھے۔مسلمانوں کے پاس اک ہی کنواں تھا کیونکہ مشرکین بلدح کے مقام پر جلدی پہنچ کر اس کے پانی کے ذخیروں پر قبضہ کر چکے تھے۔پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ اس ڈول کو کنویں میں انڈیل دو جس کا پانی خشک ہو گیا ہے۔اور اس کے پانی میں تیر گاڑ دو تو میں نے ایسا ہی کیا۔پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بہت مشکل سے باہر