اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 106
تاب بدر جلد 4 106 جبکہ دوسری روایت کے مطابق آنحضرت صلی اہل علم نے حضرت ابی اور حضرت سعید بن زید کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی تھی۔61 261 میری امت کے سب سے بڑے قاری حضرت ابی بن کعب کے متعلق آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی للی نمک کو حکم دیا کہ وہ ابی کو قرآن پڑھ کر سنائیں اور رسول اللہ صلی علی یکم نے فرمایا میری امت کے سب سے بڑے قاری ابی نہیں۔262 اور اسی وجہ سے ان کے بارے میں یہی آتا ہے کہ ان کو قرآن کا بہت علم تھا اور آگے اور بھی اس بارے میں روایتیں آئیں گی۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ : حضرت ابی بن کعب ان چار آدمیوں میں سے تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی الی یکم نے فرمایا تھا کہ یہ فرائے امت ہیں یعنی اگر کسی نے قرآن سیکھنا ہو تو ان سے سیکھے۔263 کاتبین وحی پھر حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ”رسول کریم صلی الم جن کا تبوں کو قرآن کریم لکھواتے تھے ان میں سے مندرجہ ذیل پندرہ نام تاریخ سے ثابت ہیں۔زید بن ثابت، ابی بن کعب، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرخ، زبیر بن العوام، خالد بن سعید بن العاص، ابان بن سعید العاص، حنظلہ بن الربيعَ الْأَسَدِى ، مُعَيْقِيب بن ابی فاطمہ ، عبد اللہ بن ارقم الزهرى شرخبيل بن حَسَنَه ، عبد الله بن رواحہ، حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، حضرت علی۔جب رسول کریم صلی یہ تم پر قرآن شریف نازل ہو تا تو آپ ان لوگوں میں سے کسی کو بلا کر وحی لکھوا دیتے تھے۔264 قرآن پڑھانے کے لئے چوٹی کے چار استاد حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ فرمایا کہ "رسول اللہ صلی الی یکم نے قرآن پڑھانے والے استادوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی تھی جو سارا قرآن رسول اللہ صلی علی کم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔یہ چار چوٹی کے استاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی علیم سے قرآن شریف پڑھیں اور لوگوں کو قرآن پڑھائیں۔پھر ان کے ماتحت اور بہت سے صحابہ ایسے تھے جو لو گوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے۔ان چار بڑے استادوں کے نام یہ ہیں: 1۔عبد اللہ بن مسعودؓ ، 2۔سالم مولی ابی حذیفہ ، 3۔معاذ بن جبل، 4۔ابی بن کعب ان میں سے پہلے دو مہاجر ہیں اور دوسرے دو انصاری۔کاموں کے لحاظ سے عبد اللہ بن مسعود ایک مزدور تھے ، سالم ایک آزاد شدہ غلام تھے ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب مدینہ کے رؤسا میں سے تھے۔گو یار سول اللہ صلی علیم نے تمام گروہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر گروہ میں سے قاری مقرر کر دیے