اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 77
صحاب بدر جلد 3 77 144<< حضرت عمر بن خطاب پہنچی بھی ہے تو اس کی وجہ سے تم نے اپنا سر نیچے کر لیا ہے۔نیچے گردن جھکا کر چل رہے ہو۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔” خدا تعالیٰ نے اس وقت اسلام کو حکومت دی ہے۔دنیا جو چاہے کہے مگر تم تو یقین رکھتے ہو کہ اسلام کو فتح ہو گی۔اگر تم یقین رکھتے ہو کہ اسلام کو فتح ہو گی تو پھر رونا کیا۔پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے کی ضرورت نہیں ہے اور یا ایک جگہ سے مسلمانوں کو کہیں بھی کوئی تکلیف پہنچی ہے تو کوئی رونے کی ، پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔یہ بات حضرت مصلح موعودؓ نے قادیان سے ہجرت کے بعد اس ضمن میں بیان فرمائی تھی اور فرمایا کہ ایک مومن کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا کھویا ہے۔اگر کوئی چیز ضائع بھی ہو گئی ہے، نقصان بھی تھوڑا ہو گیا تو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کیا کھویا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کس کے لیے کھویا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کے لیے اور اسلام کی ترقی کے لیے کوئی چیز ضائع ہوئی ہے ، ہاتھ سے نکل گئی تو پھر اللہ تعالیٰ بہترین اجر دے گا۔عارضی نقصانوں پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اسلامی مساوات اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ حضرت عمر کا ایک مشہور واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں آپ لکھتے ہیں کہ گو حضرت عمرؓ کو تکلیف بھی اٹھانی پڑی مگر آپ نے اس تکلیف کی کوئی پروانہ کی اور وہ مساوات قائم کی جو اسلام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ جبلة ابن آيہم ایک بہت بڑے عیسائی قبیلے کا سردار تھا۔جب شام کی طرف مسلمانوں نے حملے شروع کیے تو یہ اپنے قبیلہ سمیت مسلمان ہو گیا اور حج کے لیے چل پڑا۔حج میں ایک جگہ بہت بڑا ہجوم تھا۔اتفاقاً کسی مسلمان کا پاؤں اس کے پاؤں پر پڑ گیا۔بعض روایتوں میں ہے کہ اس کا پاؤں اس کے جبہ کے دامن پر پڑ گیا۔چونکہ وہ اپنے آپ کو ایک بادشاہ سمجھتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ میری قوم کے ساٹھ ہزار آدمی میرے تابع فرمان ہیں بلکہ بعض تاریخوں میں سے پتہ چلتا ہے کہ ساٹھ ہزار محض اس کے سپاہیوں کی تعداد تھی۔بہر حال جب ایک ننگ دھڑنگ مسلمان کا پیر اس کے پیر پر آپڑا تو اس نے غصہ میں آکر زور سے تھپڑ مار دیا اور کہا تو میری ہتک کرتا ہے۔تو جانتا نہیں کہ میں کون ہوں؟ تجھے ادب سے پیچھے ہٹنا چاہیے تھا۔تُو نے گستاخانہ طور پر میرے پاؤں پر اپنا پاؤں رکھ دیا۔وہ مسلمان تو تھپڑ کھا کر خاموش ہو رہا مگر ایک اور مسلمان بول پڑا کہ تجھے پتہ ہے کہ جس مذہب میں تو داخل ہوا ہے وہ اسلام ہے اور اسلام میں چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں۔بالخصوص اس گھر یعنی خانہ کعبہ میں جس کا تم طواف کر رہے ہو امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں سمجھا جاتا۔اس نے کہا میں اس کی پروا نہیں کرتا۔اس مسلمان نے کہا کہ عمر کے پاس تمہاری شکایت ہو گئی تو وہ اس مسلمان کا بدلہ تم سے لیں گے۔جبلة ابن آتی ہم نے جب سناتو آگ بگولا ہو گیا اور کہنے لگا کہ کیا کوئی شخص ہے جو جَبَلة ابن آیتم کے منہ پر تھپڑ مارے۔اس نے کہا کہ کسی اور کا تو مجھے پتہ نہیں مگر عمر تو ایسے