اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 73
اصحاب بدر جلد 3 73 حضرت عمر بن خطاب عورت کا اپنے بچے کا زبر دستی دودھ چھڑوانا پھر حضرت عمرؓ کے یہی آزاد کردہ غلام اسلم، جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے ، یہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں تاجروں کا ایک قافلہ آیا اور ان لوگوں نے عید گاہ میں قیام کیا۔حضرت عمرؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے فرمایا کیا تم پسند کرتے ہو کہ ہم رات کے وقت ان کا پہرہ دیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔چنانچہ آپ دونوں ساری رات ان کی حفاظت کرتے رہے اور عبادت کرتے رہے۔حضرت عمر نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ اس طرف گئے اور اس کی ماں سے کہا اللہ تعالیٰ کا خوف کرو اور اپنے بچے کا اچھی طرح خیال رکھو۔یہ کہہ کر آپ واپس تشریف لے آئے یعنی واپس اس جگہ تشریف لے آئے جہاں آپ سامان کی حفاظت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے کہ پھر آپ نے اس کے رونے کی آواز سنی۔آپ دوبارہ اس کی ماں کی طرف گئے اور اس کو پھر پہلی بات کی طرح کہا اور اپنی جگہ واپس تشریف لے آئے۔جب رات کا آخری وقت ہوا اور بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ اس کی ماں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تیر ابھلا ہو تو بہت لا پر واماں ہے۔مجھے کیا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ ساری رات رونے کی وجہ سے تمہارا بچہ بے چین رہا۔اس عورت نے کہا کہ اے اللہ کے بندے! میں اس کو دودھ کے علاوہ دوسری خوراک کی طرف مائل کر رہی ہوں لیکن وہ بچہ انکار کر دیتا ہے۔کہتا ہے کہ مجھے دودھ ہی دو۔آپ نے پوچھا وہ کیوں؟ اس عورت نے کہا کیونکہ حضرت عمر ان ہی بچوں کا وظیفہ مقرر کرتے ہیں جن کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو۔آپ نے پوچھا تمہارے اس بچے کی عمر کتنی ہے؟ اس عورت نے کہا اتنے (سال) اور اتنے ماہ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا تیر ابھلا ہو۔دودھ چھڑانے میں اتنی جلدی نہ کر۔پھر جب آپ نے لوگوں کو فجر کی نماز پڑھائی تو آپ کے رونے کی وجہ سے قراءت لوگوں پر واضح نہیں ہو رہی تھی۔حضرت عمرؓ نے اپنے آپ سے کہا، عمر کابر اہو اس نے کتنے ہی مسلمانوں کے بچوں کا خون کر دیا ہے۔پھر آپ نے منادی کرنے والے کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ اپنے بچوں کو دودھ چھڑوانے میں جلدی نہ کرو۔اسلام میں جو بھی بچہ ہے یعنی اب ہر پیدا ہونے والے بچے کا ہم وظیفہ مقرر کرتے ہیں اور حضرت عمر نے سارے ممالک میں یہ حکم بھجوادیا۔136 اس واقعہ کو حضرت مصلح موعودؓ نے بھی اپنے انداز میں بیان فرمایا ہے کہ ”حضرت عمرؓ نے شروع شروع میں دودھ پیتے بچوں کے لئے کوئی وظیفہ مقرر نہیں کیا تھا لیکن بعد میں دودھ پیتے بچوں کا حق تسلیم کر لیا اور حکم دیا کہ ان کا حصہ ان کی ماؤں کو دیا جائے۔پہلے حضرت عمر یہ سمجھتے تھے کہ جب تک بچہ دودھ پیتا ہے وہ قوم کے وجود میں حصہ نہیں لیتا۔اس کی ذمہ داری اس کی ماں پر ہے پبلک پر نہیں “ ہے کہ بیت المال سے اس کا خرچ دیا جائے لیکن ایک دفعہ حضرت عمرؓ سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے۔شہر سے باہر ایک قافلہ بدویوں کا اترا ہو ا تھا۔حضرت عمرؓ نے ایک خیمہ سے بچے کے رونے کی آواز سنی۔بچہ چیخ رہا "