اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 69

اصحاب بدر جلد 3 69 حضرت عمر بن خطاب علی تھے۔انہوں نے عرض کیا اے امیر المومنین ! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے اس میں سے میرا حق مجھے عطا فرمائیں تو حضرت عمرؓ نے ان کو کہا بڑی خوشی سے اور عزت سے اور ان کو ایک ہزار در ہم دینے کا حکم فرمایا۔پھر وہ یعنی حسن چلے گئے اور حسین بن علی آپ کی طرف آگے بڑھے اور عرض کیا اے امیر المومنین ! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا اس میں سے میرا حق مجھے عطا فرمائیں تو حضرت عمر نے ان کو کہا بڑی خوشی سے اور عزت کے ساتھ اور ان کو ایک ہزار درہم دینے کا حکم فرمایا۔پھر آپ کے بیٹے یعنی حضرت عمرؓ کے بیٹے عبد اللہ بن عمرؓ آپ کی طرف آگے بڑھے اور عرض کیا اے امیر المومنین ! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے اس میں سے میرا حق مجھے عطا فرمائیں۔تو حضرت عمرؓ نے ان کو کہا بڑی خوشی اور عزت کے ساتھ اور انہیں پانچ سو درہم دینے کا حکم فرمایا۔اس پر عبد اللہ بن عمرؓ نے عرض کیا۔اے امیر المومنین! میں ایک طاقتور مرد ہوں جو رسول اللہ صلی علیم کے سامنے تلوار چلایا کرتا تھا اور حسن اور حسین اس وقت بچے تھے جو مدینہ کی گلیوں میں پھر ا کرتے تھے۔آپ نے ان دونوں کو ایک ایک ہزار درہم دیے ہیں اور مجھے پانچ سو۔آپ نے فرمایا: ہاں ! جاؤ اور میرے پاس ایسا باپ لے کے آؤ جیسا ان دونوں کا باپ ہے اور ماں جو ان دونوں کی ماں کے جیسی ہو اور نانا جو ان دونوں کے نانا جیسا ہو اور نانی جو ان دونوں کی نانی جیسی ہو اور چچا جو ان دونوں کے چا جیسا ہو اور ماموں جو ان دونوں کے ماموؤں جیسا ہو اور خالہ جو ان دونوں کی خالہ جیسی ہو اور یقینا تو میرے پاس نہیں لا سکے گا۔130 ابو جعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب ارادہ کیا کہ لوگوں کے لیے وظیفے مقرر کر دیں اور آپ کی رائے سب لوگوں کی رائے سے بہتر تھی تو لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی ذات سے شروع کریں۔آپؐ نے فرمایا نہیں۔چنانچہ آپ نے رسول اللہ صلی علیکم کے سب سے قریبی رشتہ دار سے شروع کیا۔آپؐ نے پہلے حضرت عباس کا اور پھر حضرت علی کا حصہ مقرر کیا۔131 حضرت عمر بن خطاب حضرت امام حسن اور امام حسین کی عزت کرتے تھے اور ان کو سوار کرتے اور ان دونوں کو عطا کرتے تھے جیسے ان کے والد کو عطا کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ یمن سے کچھ حلقے یعنی کپڑوں کے جوڑے آئے تو آپ نے انہیں صحابہ کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور ان دونوں کو ان میں سے کچھ نہ دیا اور فرمایا: ان میں ان دونوں کے لائق کوئی چیز نہیں۔پھر آپ نے یمن کے نائب کو پیغام بھیجا تو اس نے ان دونوں کے مناسب حال ٹھے بنوائے۔132 اناج خود اٹھا کر لائے۔۔۔زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب