اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 68

حاب بدر جلد 3 68 حضرت عمر بن خطاب تم روزانہ کھاتی ہو بلکہ اس سے بھی ادنی آٹا تھا۔آج جو آٹا تم میں سے ایک غریب سے غریب عورت کھاتی ہے اس سے بھی وہ ادنی تھا۔مگر مدینہ میں جس قسم کے آئے ہوتے تھے ان سے وہ بہت اعلیٰ تھا۔بہر حال آٹے کے پھلکے تیار ہوئے۔عورتوں نے ان کو دیکھا اور وہ حیران رہ گئیں۔وہ وفورِ شوق میں اپنی انگلیاں ان پھلکوں کو لگاتیں اور بے ساختہ کہتیں۔اُف کیسا نرم پھلکا ہے۔کیا اس سے اچھا آٹا بھی دنیا میں ہو سکتا ہے؟ روٹی تو پک گئی لیکن یہاں سے حضرت عائشہ کے آنحضرت صلی ا م سے عشق و محبت کی کہانی شروع ہوتی ہے اور آپ کے آنحضرت صلی علیکم کے بارے میں کیا جذبات تھے۔حضرت عائشہ نے پھلکے میں سے ، اس چھوٹی سی روٹی میں سے ایک لقمہ توڑا اور منہ میں ڈالا۔وہ ساری کی ساری عور تیں جو وہاں کھڑی تھیں اس شوق سے حضرت عائشہ کا منہ دیکھنے لگیں کہ اس کے کھانے سے حضرت عائشہ کی عجیب حالت ہو گی۔نرم چھلکا ہے کھا کے وہ مزہ لیں گی۔وہ خوشی کا اظہار کریں گی اور خاص قسم کی لذت اس سے محسوس کریں گی۔مگر حضرت عائشہ کے منہ میں وہ لقمہ گیا تو جس طرح کسی نے گلا بند کر دیا ہو۔وہ لقمہ ان کے منہ میں ہی پڑارہ گیا اور ان کی آنکھوں میں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔عورتوں نے کہا۔بی بی آنا تو بڑا ہی اچھا ہے۔روٹی اتنی نرم ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔آپ کو الله کیا ہو گیا ہے کہ اسے نگل ہی نہیں سکیں اور رونے لگ گئیں ؟ کیا اس آٹے میں کوئی نقص ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا۔آٹے میں نقص نہیں۔میں مانتی ہوں کہ یہ بڑا ہی نرم پھلکا ہے اور ایسی چیز پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھی مگر میری آنکھوں سے اس لیے آنسو نہیں ہے کہ اس آٹے میں کوئی نقص ہے بلکہ مجھے وہ دن یاد آگئے جب رسول کریم کی لی کی اپنی آخری عمر میں سے گزر رہے تھے۔آپ ضعیف ہو گئے تھے اور سخت غذا نہیں کھا سکتے تھے مگر ان دنوں میں بھی ہم پتھروں سے گندم چل کر اور اس کی روٹیاں پکا پکا کر آپ کو دیتے تھے۔پھر آپؐ نے فرمایا۔وہ جس کے طفیل ہم کو یہ نعمتیں ملیں وہ تو ان نعمتوں سے محروم چلا گیا لیکن ہم جنہیں اس کے طفیل سے یہ سب عزتیں مل رہی ہیں ہم وہ نعمتیں استعمال کر رہے ہیں۔یہ کہا اور لقمہ تھوک دیا اور فرمایا۔اٹھا لے جاؤ یہ پھلکے میرے سامنے سے۔مجھے رسول کریم صلی علیہ کی کا زمانہ یاد آکر گلے میں پھندا پڑتا ہے اور میں یہ پھلکا نہیں کھا سکتی۔129 حضرت عمر کا حضرت حسن اور حضرت حسین سے محبت کا اظہار حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں اصحاب رسول اللہ صلی علیم نے مدائن کو فتح کیا۔( مدائن کسری کی تخت گاہ تھا) تو آپ نے ان کو مسجد میں چھڑے کی چٹائی بچھانے کا حکم دیا اور اموالِ غنیمت کے بارے میں حکم دیا جو اس چٹائی پر انڈیل دیے گئے۔پھر اصحاب رسول صلی الہ یکم جمع ہوئے تو سب سے پہلے جس نے آپؐ سے مالِ غنیمت لینے کی ابتدا کی وہ حضرت حسن بن