اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 56

اصحاب بدر جلد 3 56 حضرت عمر بن خطاب 107< میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ہوتی تو ضرور بول اٹھتے مگر سب خاموش ہو گئے اور بازاروں میں یہ آیت پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ گویا یہ آیت آج اتری ہے۔معاذ اللہ صحابہ منافق نہ تھے جو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے رعب میں آکر خاموش ہو رہے اور حضرت ابو بکر کی تردید نہ کی۔نہیں اصل بات یہی تھی جو حضرت ابو بکر نے بیان کی۔اس لئے سب نے گردن جھکالی۔یہ ہے اجماع صحابہ تھا۔حضرت عمر بھی تو یہی کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی علی ظلم پھر آئیں گے۔اگر یہ استدلال کامل نہ ہو تا ( اور کامل تب ہی ہو تا کہ کسی قسم کا استثناء نہ ہوتا کیونکہ اگر حضرت عیسی زندہ آسمان پر چلے گئے تھے اور انہوں نے پھر آنا تھا تو پھر یہ استدلال کیا یہ تو ایک مسخری ہوتی تو خود حضرت عمر ہی تردید کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کو مختلف جگہوں پر بار بار بیان کیا ہے۔میں نے جو مختلف واقعات بیان کیے ہیں تو وہ اس لیے ہے کہ وہ لوگ جو حضرت عیسی کو زندہ آسمان پر بیٹھا تصور کرتے ہیں ان کے دماغ سے یہ خیال نکالا جائے کہ کوئی بشر بھی زندہ آسمان پر نہیں گیا اور نہ جاسکتا ہے اور اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام بھی وفات پاچکے ہیں۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں ایک دفعہ میں ان کے ساتھ جارہا تھا اور اپنے کسی کام کے واسطے جاتے تھے۔ان کے ہاتھ میں کوڑا تھا اور میرے سوا اور کوئی ان کے ساتھ نہ تھا اور وہ اپنے آپ سے باتیں کر رہے تھے اور اپنے پیروں کی پچھلی طرف کوڑا مارتے جاتے تھے۔پس یکا یک میری طرف مڑ کر کہنے لگے۔اے ابن عباس ! کیا تم جانتے ہو کہ جس روز حضور صلی اللی کم کی وفات ہوئی ہے میں نے وہ بات کیوں کہی تھی (یعنی حضور کا وصال نہیں ہوا ہے اور جو ایسا کہے گا اسے میں تلوار سے ماروں گا) حضرت ابن عباس کہتے ہیں۔میں نے کہا: اے امیر المومنین ! میں نہیں جانتا۔آپ (حضرت عمرؓ رضی اللہ تعالیٰ ) ہی واقف ہوں گے۔( یعنی حضرت عمرؓ کو کہا کہ آپ ہی واقف ہوں گے کہ کیوں کہی تھی) حضرت عمررؓ فرمانے لگے کہ اللہ کی قسم ! اس کا باعث یہ تھا کہ میں اس آیت کو پڑھا کرتا تھا کہ : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقره: 144) اور اسی طرح ہم نے تمہیں وسطی امت بنادیا تاکہ تم لوگوں پر نگران ہو جاؤ اور رسول تم پر نگر ان ہو جائے ) اور اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی علی تم اپنی امت میں زندہ رہ کر ان کے اعمال کے گواہ ہوں گے۔پس اس سبب سے میں نے اس روز وہ گفتگو کی تھی جو میں نے کی تھی۔108 خلافت ابو بکر حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں بخاری میں جو ذکر ملتا ہے وہ پہلے بھی بیان ہوا ہے۔دوبارہ میں بیان کرتا ہوں کہ انصارینی ساعدہ کے گھر حضرت سعد بن عبادہ کے پاس اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بن خطاب اور