اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 468

محاب بدر جلد 3 468 حضرت علی یعنی جو بھی ٹیکس وصول کرنا ہے جزیہ وصول کرنا ہے اس کے لیے کسی کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دینی، بوجھ نہیں ڈالنا۔میں نے کہا یا امیر المومنین! پھر تو میں آپ کی طرف ایسے ہی لوٹوں گا جیسے میں آپ کے پاس سے جارہا ہوں۔کچھ نہیں ملے گا۔حضرت علی نے فرمایا تمہارا بھلا ہو۔ہاں خواہ تم خالی ہاتھ ہی لوٹو ہمیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کے اس مال میں سے لیں جو اُن کی ضرورت سے زائد ہو۔920 حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی تم نے حضرت علی سے فرمایا تم میرے بھائی اور میرے ساتھی ہو۔921 علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی کے پاس حاضر تھا جب ان کے لیے ایک جانور لایا گیا تا کہ اس پر سوار ہوں۔جب آپ نے رکاب میں پاؤں رکھا تو تین مرتبہ بسم اللہ کہا۔جب اس کی پشت پر سیدھا بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔پھر کہا سُبُحْنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَ مَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَ إِنَّا إِلَى رَبَّنَا لمُنقَلِبُونَ (الزخرف : 14-15) یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا جبکہ ہم اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔پھر آپ نے تین مرتبہ الحمد للہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہا۔پھر آپ نے یہ دعا پڑھی کہ سُبحَانَكَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا انْتَ۔یعنی تو پاک ہے یقیناً میں نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا۔پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔پھر آپ مسکرائے۔راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! آپ کس وجہ سے مسکرائے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی علی نام کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جس طرح میں نے کیا ہے۔پھر آپ مسکرائے تھے اور حضرت علی کہتے ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! آپ کس وجہ سے مسکرائے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: یقیناً تیر ارب اپنے بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ! میرے گناہ بخش دے۔یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔اس بات پر آنحضرت صلی ال یکم مسکرائے تھے۔922 يحيى بن يَعْمُر سے مروی ہے کہ ایک بار حضرت علی بن ابو طالب نے خطاب کیا۔اللہ تعالیٰ کی حمد و شنابیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم سے پہلے لوگ صرف گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ان کے نیک لوگ اور علماء انہیں اس بات سے منع نہ کرتے تھے۔پھر جب وہ گناہوں میں حد سے بڑھ گئے تو انہیں قسماقسم کی سزاؤں نے پکڑ لیا۔پس تم لوگ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے رو کو قبل اس کے کہ تم پر بھی ان جیسا عذاب آجائے۔یاد رکھو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا نہ تو تمہاری روزی گھٹائے گا اور نہ تمہاری موت کو قریب کرے گا۔923 حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی نیلم کے ساتھ ایک انصاری عورت کے گھر میں تھے جس نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہوا تھا، دعوت کی ہوئی تھی۔نبی اکرم صلی الی یکم نے فرمایا: