اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 464
اصحاب بدر جلد 3 464 حضرت علی 907 نے عرض کی کہ اے امیر المومنین! آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ فرمایا یہ فرشتوں اور نبیوں کے وفد ہیں اور یہ محمد رسول اللہ صلی میں کم ہیں جو فرمارہے ہیں (یعنی ایک نظارہ میں دیکھ رہا ہوں کہ فرشتوں اور نبیوں کے وفد ہیں، محمد رسول اللہ صلی علیکم بھی وہاں ہیں۔آپ یعنی آنحضرت صلی علیہ یکم فرمارہے ہیں) کہ اے علی ! خوش ہو جاؤ کیونکہ جس طرف تم جارہے ہو وہ اس سے بہتر ہے جس میں تم موجود ہو۔ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت علی اپنی وصیت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں آپ سب کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہتا ہوں۔اس کے بعد کوئی بات نہیں کی سوائے لا الہ الا اللہ کے کلمہ کے، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض ہو گئی۔حضرت حسن بن علی ملکا خطبہ جب حضرت علی بن ابو طالب کی وفات ہوئی تو حضرت حسن بن علی منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! آج کی رات ایک ایسے شخص کی وفات ہوئی ہے کہ نہ اس سے پہلے لوگ اس سے سبقت لے جا سکے اور نہ بعد میں آنے والے اس کا مقام پاسکیں گے۔رسول الله صلى علم جب اسے کسی مہم پر بھیجتے تو جبرئیل اس کے دائیں طرف اور میکائیل اس کے بائیں طرف ہوتے تھے اور وہ واپس نہ کو شنا تھا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نہ عطا کر دیتا تھا۔اس نے صرف سات سو درہم ترکہ چھوڑا ہے۔اس کا ارادہ تھا کہ وہ اس رقم سے غلام خریدے اور اس کی روح اسی رات کو قبض کی گئی جس رات کو حضرت عیسیٰ کی روح کا رفع ہوا تھا یعنی ستائیس رمضان المبارک کی ایک اور روایت میں ہے حضرت علی کی شہادت کی تاریخ سترھویں رمضان کی رات سن چالیس ہجری بیان ہوئی ہے۔یہ چالیس ہجری کا سال تھا اور آپ کا دور خلافت چار سال ساڑھے آٹھ ماہ رہا۔208 حضرت مصلح موعودؓ اس واقعہ کو بیان فرماتے ہیں۔طبقات ابن سعد کی جلد ثالث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وفات کے حالات میں حضرت امام حسن سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اے لو گو! آج وہ شخص فوت ہوا ہے کہ اس کی بعض باتوں کو نہ پہلے پہنچے اور نہ بعد کو آنے والے پہنچیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ تم اسے جنگ کے لیے بھیجتے تھے تو جبرئیل اس کے دائیں طرف ہوتے تھے اور میکائیل بائیں طرف۔پس وہ ہلافتح حاصل کیے واپس نہیں ہوتا تھا۔بغیر فتح حاصل کیسے واپس نہیں ہو تا تھا اور اس نے صرف سات سو درہم اپنا ترکہ چھوڑا ہے جس سے اس کا ارادہ تھا کہ ایک غلام خریدے اور وہ اس رات کو فوت ہوا ہے جس رات عیسی بن مریم کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی تھی یعنی رمضان کی ستائیسویں تاریخ کو۔حضرت علی کو ان کے دونوں بیٹوں اور حضرت عبد اللہ بن جعفر نے غسل دیا اور آپنے کے بیٹے حضرت حسن نے نماز جنازہ پڑھائی اور نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہیں۔آپ کو تین کپڑوں کا کفن دیا گیا 909