اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 26

اصحاب بدر جلد 3 26 حضرت عمر بن خطاب قتال کریں گے جب تک کہ ہم میں جان ہے۔58 بدر کے قیدی اور حضرت عمر کا مشورہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے قیدیوں کو پکڑا یعنی بدر کے موقع پر مسلمانوں نے قیدیوں کو پکڑا تو رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ سے فرمایا: ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وہ ہمارے چچازاد اور رشتہ دار ہیں۔میر اخیال ہے آپ ان سے فدیہ لے لیں۔وہ ہمارے لیے ان کفار کے مقابلے میں قوت کا باعث ہو گا اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اسلام کی طرف راہنمائی فرمائے۔رسول اللہ صلی ا ہم نے فرمایا: اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت عمرؓ نے کہا: نہیں یار سول اللہ اللہ کی قسم !امیری وہ رائے نہیں ہے جو ابو بکر کی رائے ہے ، بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے سپر د کر دیں۔ہم ان کی گردنیں مار دیں اور علی کے سپر د عقیل کو کریں کہ وہ اس کی گردن مارے اور میرے سپر د فلاں کو کریں جو نسباً حضرت عمر فکارشتہ دار تھا تو میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ سب کفار کے لیڈر اور ان کے سردار ہیں۔رسول اللہ صلی ال نیلم نے حضرت ابو بکر کی بات کو ترجیح دی۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ میری بات کو ترجیح نہ دی۔اگلے دن میں آیا تو رسول اللہ صلی یکم اور ابو بکر بیٹھے رورہے تھے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے کس چیز نے آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رلایا ہے۔اگر مجھے رونا آیا تو میں بھی روؤں گا وگرنہ میں آپ دونوں کے رونے کی طرح رونے کی صورت بناؤں گا۔رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا: میرے رونے کی وجہ یہ ہے جو تمہارے ساتھیوں نے میرے سامنے ان سے فدیہ لینے کی تجویز پیش کی تھی۔میرے سامنے ان کا عذاب اس درخت سے زیادہ قریب پیش کیا گیا ہے جو درخت اللہ کے نبی صلی علیکم کے قریب ہی تھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔مَا كَانَ لِنَبِي أَن يَكُونَ لَةَ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ (1) نفال:68) یعنی کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کے بغیر قیدی بنائے اور پھر انگلی دو آیتیں چھوڑ کے ہے کہ فَكُلُوا مِنا غَيْتُمْ حَللًا طيبا ( قال (70) یعنی پس جو مال غنیمت تم حاصل کرو اس میں سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ۔پس اللہ نے ان کے لیے غنیمتیں جائز کر دیں۔یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔59 روایات میں ایک ابہام اور اس کا حل اس حدیث کے شروع کے الفاظ جو ہیں کہ آنحضرت صلی کم اور حضرت ابو بکر رورہے تھے اور پھر آگے جو قرآنی آیات کے الفاظ ہیں ان میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ اس روایت کو مبہم سا کر دیتا ہے۔واضح نہیں کرتا، بات واضح نہیں ہوتی۔بہر حال اس روایت کو صحیح سمجھ کے اکثر کتب تاریخ اور سیرت اور مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گویا جنگ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے والے فیصلے پر