اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 424

اصحاب بدر جلد 3 في نِيَّةٍ وَبَصِيرَةٍ إنِّي لَأَرْجُو ان أُقِيمَ 424 وَالصِّدقُ مَنْجى كُلِّ فَائِزُ عَلَيْكَ نَائِحِةَ الْجَنَائِز مِنْ ضَرْبَةٍ نَجْلاءَ يَبْقَى ذِكْرُهَا عِندَ الْهَزَاهِرُ حضرت علی تم ہر گز جلدی نہ کرو۔تمہاری آواز کا جواب دینے والا تمہارے پاس آ گیا ہے جو بے بسی اور کمزوری کا اظہار کرنے والا نہیں۔مضبوط ارادے اور مکمل بصیرت کے ساتھ اور میدان میں ثابت قدمی اور ڈٹ جانا ہی ہر کامیاب ہونے والے کی نجات کا ذریعہ ہے۔میں یقیناً امید رکھتا ہوں کہ میں تجھ پر میتوں پر نوحہ کرنے والیاں اکٹھی کر دوں گا۔ایسا بڑ از خم لگا کر جس کا تذکرہ جنگوں میں باقی رہے گا۔حضرت علی بن ابو طالب نے جب کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس سے مقابلے کے لیے نکلوں گا تو رسول اللہ صلی علی یم نے انہیں اپنی تلوار دی اور عمامہ باندھا اور دعا کی کہ اے اللہ ! اس یعنی عمر و بن عبدو ڈ کے مقابل میں اس کی مدد کر۔حضرت علی اس کے مقابلہ کے لیے نکلے۔دونوں ایک دوسرے سے مقابلہ کے لیے ایک دوسرے کے قریب ہوئے اور جب مقابلے پہ آئے تو وہاں ان دونوں کے درمیان مٹی کا غبار اٹھا۔حضرت علیؓ نے اسے مار کر قتل کر دیا اور اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تو ہم نے جان لیا کہ حضرت علی نے اسے قتل کر دیا ہے۔اس کے ساتھی پشت پھیر کر بھاگ گئے اور اپنے گھوڑوں کی وجہ سے جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔32 اس کی مزید تفصیل بیان فرماتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں تحریر فرمایا ہے کہ عمر و ایک نہایت نامور شمشیر زن تھا اور اپنی بہادری کی وجہ سے اکیلا ہی ایک ہزار سپاہی کے برابر سمجھا جاتا تھا اور چونکہ وہ بدر کے موقع پر خائب و خاسر ہو کر واپس گیا تھا اس لئے اس کا سینہ مسلمانوں کے خلاف بغض و انتقام کے جذبات سے بھرا ہوا تھا۔اس نے میدان میں آتے ہی نہایت مغرورانہ لہجے میں مبارز طلبی کی۔کہا کوئی ہے جو میرے مقابلے پہ آئے۔بعض صحابہ اس کے مقابلہ سے کتراتے تھے مگر آنحضرت صلی ایم کی اجازت سے حضرت علی اس کے مقابلہ کے لئے آگے نکلے اور آنحضرت صلی علیہ ہم نے اپنی تلوار ان کو عنایت فرمائی اور ان کے واسطے دعا کی۔حضرت علیؓ نے آگے بڑھ کر عمر و سے کہا۔میں نے سنا ہے کہ تم نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ اگر قریش میں سے کوئی شخص تم سے دو باتوں کی درخواست کرے گا تو تم ان میں سے ایک بات ضرور مان لو گے۔عمرو نے کہا ہاں۔حضرت علی نے کہا تو پھر میں پہلی بات تم سے یہ کہتا ہوں کہ مسلمان ہو جاؤ اور آنحضرت صلی للی کم کو مان کر خدائی انعامات کے وارث بنو۔عمرو نے کہا یہ نہیں ہو سکتا۔حضرت علی نے کہا کہ اگر یہ بات منظور نہیں ہے تو پھر آؤ میرے ساتھ لڑنے کو تیار ہو جاؤ۔اس پر عمرو بننے لگا اور کہنے لگا میں نہیں سمجھتا تھا کہ کوئی شخص مجھ سے یہ الفاظ کہہ سکتا ہے۔پھر اس نے حضرت علی کا نام و نسب پوچھا اور ان کے بتانے پر کہنے لگا کہ بھتیجے تم ابھی بچے ہو۔میں تمہارا خون نہیں گرانا چاہتا۔اپنے بڑوں میں سے کسی کو بھیجو۔حضرت علی نے جواب میں کہا کہ تم میرا خون تو