اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 389
اصحاب بدر جلد 3 ہیں:۔389 حضرت عثمان بن عفان یہ تمام ثبوت دل کو پوری تسلی دلا دیتے ہیں کہ وہ قرآن جسے ہم آج پڑھتے ہیں لفظ لفظا وہی ہے جسے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لوگوں کو پڑھ کر سنایا تھا۔“ پھر سر ولیم میور اپنی کتاب ”لائف آف محمدم“ میں لکھتے ہیں کہ : اب جو قرآن ہمارے ہاتھوں میں ہے گو یہ بالکل ممکن ہے کہ محمد (رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم) نے اپنے زمانہ میں اسے خود بنایا ہو اور بعض دفعہ اس میں خود ہی بعض تبدیلیاں بھی کر دی ہوں مگر اس میں شبہ نہیں کہ یہ وہی قرآن ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں دیا تھا۔“ اسی طرح سے لکھتے ہیں کہ ”ہم نہایت مضبوط قیاسات کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ ہر ایک آیت جو قرآن میں ہے وہ اصلی ہے۔اور محمد ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی غیر محرف تصنیف ہے۔“ پھر نولڈ کے جر من مستشرق لکھتا ہے کہ: ممکن ہے کہ تحریر کی کوئی معمولی غلطیاں (یعنی طرزِ تحریر کی ) ہوں تو ہوں لیکن جو قرآن عثمان نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اس کا مضمون وہی ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیش کیا تھا۔گو اس کی ترتیب عجیب ہے۔یورپین علماء کی یہ کوششیں کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن میں بعد کے زمانہ میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی بالکل ناکام ثابت ہوئی ہیں۔الغرض یورپین مصنفین نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ جہاں تک قرآن کی ظاہری حفاظت کا سوال ہے اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ لفظاً لفظا اور حر فأحر فأیہ الله سة 754<< 7536 وہی کتاب ہے جو محمد رسول اللہ صلی ا ل م نے لوگوں کو پڑھ کر سنائی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول بیان فرماتے ہیں کہ ”لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن جتلاتے ہیں۔یہ بات غلط ہے۔صرف عثمان کے لفظ کے ساتھ قافیہ ملایا ہے۔ہاں شائع کنندہ قرآن اگر کہیں تو کسی حد تک بجا ہے۔آپ کی خلافت کے زمانہ میں اسلام دور دور تک پھیل گیا تھا اس لئے آپ نے چند نسخه نقل کرا کر مکہ، مدینہ ، شام ، بصرہ، کوفہ اور بلاد میں بھجوا دیئے تھے اور جمع تو اللہ تعالی کی پسند کی ہوئی ترتیب کے ساتھ نبی کریم صلی المی کم ہی نے فرمایا تھا اور اسی پسندیدہ ترتیب کے ساتھ ہم تک پہنچایا گیا ہے۔ہاں اس کا پڑھنا اور جمع کرنا ہم سب کے ذمہ ہے۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کہ جب بجائے اس کے کہ مکہ والے مکہ میں رہتے ، مدینہ والے مدینہ میں رہتے، نجد والے نجد میں رہتے ، طائف والے طائف میں رہتے، یمن والے یمن میں رہتے اور وہ ایک دوسرے کی زبان اور محاورات سے ناواقف ہوتے۔مدینہ دارالحکومت بن گیا تو تمام قو میں ایک ہو گئیں کیونکہ اس وقت مدینہ والے حاکم تھے جن میں ایک بڑا طبقہ مہاجرین مکہ کا تھا اور خود اہل مدینہ بھی اہل مکہ کی صحبت میں حجازی عربی سیکھ چکے تھے۔پس چونکہ قانون کا نفاذان کی طرف سے ہوتا تھا۔مال ان کے قبضہ میں تھا یعنی حکومت جن کے پاس تھی۔