اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 388

388 حضرت عثمان بن عفان حاب بدر جلد 3 لوگوں نے اپنے لہجہ اور لغات کے مطابق قرآن پڑھنا شروع کر دیا حتی کہ ایک دوسرے کی قراءت کو غلط قرار دینے لگے تو آپ ڈرے کہ کہیں یہ معاملہ سنگین صورت نہ اختیار کر جائے۔چنانچہ آپ نے ان صحائف کو جو حضرت ابو بکر نے تیار کر وائے تھے ایک مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا اور صرف قریش کی لغت کو ملحوظ رکھا اور یہ دلیل دی کہ قرآن کا نزول قریش کی لغت میں ہوا ہے۔اگر چہ ابتدامیں آسانی کی خاطر دوسری لغات کے مطابق قرآن کی تلاوت کی اجازت دی گئی تھی مگر جب آپ نے دیکھا کہ اب ایسا کرنے کی حاجت نہیں رہی تو آپ نے ایک ہی لغت کی قراءت پر اکتفا کا ارشاد فرمایا۔مصحف : علامہ قرطبی فرماتے ہیں اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت عثمان نے لوگوں کو اپنے والے جمع کرنے کی زحمت کیوں اٹھائی جبکہ آپ سے قبل حضرت ابو بکر اس کام کو کر چکے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عثمان نے جو کیا اس کا مقصد مصحف کی تدوین پر لوگوں کو جمع کرنا نہ تھا۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ حضرت عثمان نے ام المومنین حضرت حفصہ گو کہلا بھیجا کہ آپ قرآنی صحیفے ہمیں بھیج دیں ہم ان کی کاپیاں بنا کر اصل صحیفے آپ کو واپس کر دیں گے۔حضرت عثمان نے یہ قدم صرف اس لیے اٹھایا کہ قراءت قرآن کے بارے میں لوگ اختلاف کرنے لگے تھے۔کیونکہ صحابہ مختلف شہروں میں منتشر ہو چکے تھے اور اختلاف قراءت کی صور تحال سنگین ہو چکی تھی اور اہل شام و عراق کے درمیان اختلاف نے وہ شکل اختیار کر لی تھی جس کو حضرت حذیفہ نے بیان کیا ہے۔752 حضرت مصلح موعودؓ سورۃ الاعلیٰ کی آیت سَنُقْرِئُكَ فَلا تنسی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ ہم تمہیں وہ کلام سکھائیں گے جسے قیامت تک تم نہیں بھولو گے بلکہ یہ کلام اسی طرح محفوظ رہے گا جس طرح اس وقت ہے۔چنانچہ اس دعویٰ کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کے اشد ترین معاند بھی آج کھلے بندوں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم اسی شکل و صورت میں محفوظ ہے جس شکل و صورت میں رسول کریم صلی علیم نے اسے پیش فرمایا تھا۔نولڈ کے( Theodor Noldeke)، سپر نگر (Springer) اور ولیم میور (William Muir) سب نے اپنی کتابوں میں تسلیم کیا ہے کہ قطعی اور یقینی طور پر ہم سوائے قرآن کریم کے اور کسی کتاب کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس شکل میں بائی سلسلہ نے وہ کتاب پیش کی تھی اسی شکل میں وہ دنیا کے سامنے موجود ہے۔صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کے متعلق حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جس شکل میں محمد رسول اللہ صلی علیہ ہم نے اپنے صحابہ کو یہ کتاب دی تھی اسی شکل میں اب بھی محفوظ ہے۔وہ لوگ چونکہ اس بات کے قائل نہیں کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ نے نازل کیا ہے بلکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی علیم نے یہ کتاب خود بنائی ہے اس لیے وہ یہ تو نہیں کہتے کہ جس شکل میں یہ کتاب نازل ہوئی تھی اسی شکل میں محفوظ ہے مگر وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ جس شکل میں محمد رسول اللہ صلی للی کرم نے یہ کتاب پیش کی تھی اسی شکل میں یہ کتاب اب تک دنیا میں پائی جاتی ہے۔چنانچہ سرولیم میور اپنی کتاب 'دی کران‘ ( القرآن ) میں لکھتے