اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 358
اصحاب بدر جلد 3 358 حضرت عثمان بن عفان مقابلہ جان توڑ کر کیا۔حضرت امام حسن جو نہایت صلح جو بلکہ صلح کے شہزادے تھے انہوں نے بھی اس دن رجز پڑھ پڑھ کر دشمن پر حملہ کیا۔ان کا اور محمد بن طلحہ کا اس دن کا رجز خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ ان سے ان کے دلی خیالات کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے۔حضرت امام حسن یہ شعر پڑھ کر باغیوں پر حملہ کرتے تھے کہ لَا دِينُهُمْ دِينِي وَلَا أَنَا مِنْهُمُ حَتَّى أَسِيرَ إلى طَمَارِ شَمَامٍ یعنی ان لوگوں کا دین میرا دین نہیں اور نہ ان لوگوں سے میرا کوئی تعلق ہے اور میں ان لوگوں سے اس وقت تک لڑوں گا کہ شمام پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جاؤں۔(شمام عرب کا ایک پہاڑ ہے جس کو بلندی پر پہنچنے اور مقصد کے حصول سے مشابہت دیتے ہیں) بہر حال حضرت امام حسن کا یہ مطلب ہے کہ جب تک میں اپنے مدعا کو نہ پہنچ جاؤں اس وقت تک میں برابر ان سے لڑتا رہوں گا اور ان سے صلح نہ کروں گا کیونکہ ہم میں کوئی معمولی اختلاف نہیں کہ بغیر ان پر فتح پانے کے ہم ان سے تعلق قائم کر لیں۔یہ تو وہ خیالات ہیں جو اس شہزادہ صلح کے دل میں موجزن تھے۔اب ہم طلحہ کے لڑکے محمد کار جز لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں۔أَنَا ابْنُ مَنْ حَالَى عَلَيْهِ بِأُحُدٍ وَرَدَّ احْزَابًا عَلَى رَغْمِ مَعَةٍ یعنی میں اس کا بیٹا ہوں جس نے رسول کریم صلی علیکم کی حفاظت اُحد کے دن کی تھی اور جس نے باوجود اس کے کہ عربوں نے سارا زور لگایا تھا ان کو شکست دے دی تھی۔یعنی آج بھی اُحد کی طرح کا ایک واقعہ ہے اور جس طرح میرے والد نے اپنے ہاتھ کو تیروں سے چھلنی کروالیا تھا مگر رسول کریم صلی علیہ یکم کو آنچ نہ آنے دی تھی میں بھی ایسا ہی کروں گا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر بھی اس لڑائی میں شریک ہوئے اور بری طرح زخمی ہوئے۔مروان بھی سخت زخمی ہوا اور موت تک پہنچ کر کو ٹا۔مغیرہ بن الاخنس مارے گئے۔جس شخص نے ان کو مارا تھا اس نے دیکھ کر کہ آپ زخمی ہی نہیں ہوئے بلکہ مارے گئے ہیں زور سے کہا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ سردارِ لشکر نے اسے ڈانٹا کہ اس خوشی کے موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہو۔اس نے کہا کہ آج رات میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ ایک شخص کہتا ہے کہ مغیرہ کے قاتل کو دوزخ کی خبر دو۔پس یہ معلوم کر کے کہ میں ہی اس کا قاتل ہوں مجھے اس کا صدمہ ہونالازمی تھا۔مذکورہ بالا لوگوں کے سوا اور لوگ بھی زخمی ہوئے اور مارے گئے اور حضرت عثمان کی حفاظت کرنے والی جماعت اور بھی کم ہو گئی لیکن اگر باغیوں نے باوجود آسمانی انذار کے اپنی ضد نہ چھوڑی اور خدا تعالیٰ کی محبوب جماعت کا مقابلہ جاری رکھا تو دوسری طرف مخلصین نے بھی اپنے ایمان کا اعلیٰ نمونہ دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی۔باوجود اس کے کہ اکثر محافظ مارے گئے یازخمی ہو گئے پھر بھی ایک قلیل گر وہ برابر دروازے کی حفاظت کرتا رہا۔684