اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 357
محاب بدر جلد 3 357 حضرت عثمان بن عفان حضرت عثمان کا ان کو گھروں کو واپس کرنا ان کی جانوں کی حفاظت کے لیے تھا یعنی صحابہ کی جانوں کی حفاظت کے لیے تھا تو پھر کیا وہ ایسے محبت کرنے والے وجود کو خطرے میں چھوڑ کر اپنے گھروں میں جاسکتے تھے کہ حضرت عثمان تو ان کی محبت کی خاطر ان کی جانوں کو ضائع ہونے سے بچارہے ہیں اور وہ حضرت عثمان کو چھوڑ دیں یہ ممکن نہیں تھا۔اس مؤخر الذکر گروہ میں سب اکابر صحابہ شامل تھے۔چنانچہ باوجو داس حکم کے حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر کے لڑکوں نے اپنے اپنے والد کے حکم کے ماتحت حضرت عثمان کی ڈیوڑھی پر ہی ڈیرہ جمائے رکھا اور اپنی تلواروں کو میانوں میں نہ داخل کیا۔باغیوں کی گھبراہٹ اور جوش کی کوئی حد باقی نہ رہی جبکہ حج سے فارغ ہو کر آنے والے لوگوں میں سے اسے دستے مدینہ میں داخل ہونے لگے اور ان کو معلوم ہو گیا کہ اب ہماری قسمت کے فیصلہ کا وقت بہت نزدیک ہے۔چنانچہ مغیرہ بن الأخنس سب سے پہلے شخص تھے جو حج کے بعد ثواب جہاد کے لیے مدینہ میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ ہی یہ خبر باغیوں کو ملی کہ اہل بصرہ کا لشکر جو مسلمانوں کی امداد کے لیے آرہا ہے صر از مقام پر جو مدینہ سے صرف ایک دن کے فاصلے پر ہے آپہنچا ہے۔ان خبروں سے متاثر ہو کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح ہو اپنے مدعا کو جلد پورا کیا جائے اور چونکہ وہ صحابہ اور ان کے ساتھی، جنہوں نے باوجود حضرت عثمان کے منع کرنے کے حضرت عثمان کی حفاظت نہ چھوڑی تھی اور صاف کہہ دیا تھا کہ اگر ہم آپ کو باوجو د ہا تھوں میں طاقت مقابلہ ہونے کے چھوڑ دیں تو خدا تعالیٰ کو کیا منہ دکھلائیں گے بوجہ اپنی قلت تعداد اب مکان کے اندر کی طرف سے حفاظت کرتے تھے اور دروازہ تک پہنچنا باغیوں کے لیے مشکل نہ تھا۔انہوں نے دروازے کے سامنے لکڑیوں کے انبار جمع کر کے آگ لگادی تا کہ دروازہ جل جائے اور اندر پہنچنے کا رستہ مل جاوے۔صحابہ نے اس بات کو دیکھا تو اندر بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔تلواریں پکڑ کر باہر نکلنا چاہا مگر حضرت عثمانؓ نے اس بات سے روکا اور فرما یا گھر کو آگ لگانے کے بعد اور کون سی بات رہ گئی ہے۔اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔تم لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالو اور اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔ان لوگوں کو صرف میری ذات سے عداوت ہے مگر جلد یہ لوگ اپنے کیے پر پشیمان ہوں گے۔میں ہر ایک شخص کو جس پر میری اطاعت فرض ہے اس کے فرض سے سبکدوش کرتا ہوں اور اپنا حق معاف کرتا ہوں۔مگر صحابہ نے اور دیگر لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور تلواریں پکڑ کر باہر نکلے۔ان کے باہر نکلتے وقت حضرت ابو ہریرہ بھی آگئے اور باوجود اس کے کہ وہ فوجی آدمی نہ تھے وہ بھی ان کے ساتھ مل گئے اور فرمایا کہ آج کے دن کی لڑائی سے بہتر اور کون سی لڑائی ہو سکتی ہے اور پھر باغیوں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔يُقَومِ مَالَی ادْعُوكُمْ إِلَى النَّجوةِ وَ تَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ (المومن :42) یعنی اے میری قوم ! کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو۔یہ لڑائی ایک خاص لڑائی تھی اور مٹھی بھر صحابہ جو اس وقت جمع ہو سکے انہوں نے اس لشکر عظیم کا