اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 349

صحاب بدر جلد 3 349 حضرت عثمان بن عفان فرمایا تھا کہ جو قمیص مجھے اللہ تعالیٰ نے پہنائی ہے وہ میں کس طرح اتار سکتا ہوں۔بہر حال مدینہ کا انتظام انہی لوگوں کے ہاتھ میں تھا اور انہوں نے مل کر مصر کی فوجوں کے سردار غافقی کو اپنا سر دار تسلیم کر لیا تھا۔اس طرح مدینہ کا حاکم گویا اس وقت غافقی تھا اور کو فہ کی فوج کا سردار اشتر تھا اور بصرہ کی فوج کا سردار حکیم بن جَبَلہ تھا، وہی ڈاکو جسے اہل ذمہ کے مال لوٹنے پر حضرت عثمان نے بصرہ میں نظر بند کر دینے کا حکم دیا تھا۔وہ ڈا کو سر دار بن گیا تھا۔دونوں غافقی کے ماتحت کام کرتے تھے۔حکیم بن جبلہ بھی اور اشتر بھی غافقی کے ماتحت کام کرنے لگے اور آپ فرماتے ہیں کہ اس سے ایک دفعہ پھر یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس فتنے کی جڑ مصری تھے جہاں عبد اللہ بن سبا کام کر رہا تھا۔مسجد نبوی میں غافقی نماز پڑھاتا تھا اور رسول کریم صلی علیہ نیم کے صحابہ اپنے گھروں میں مقید رہتے یا اس کے پیچھے نماز ادا کرنے پر مجبور تھے۔جب تک ان لوگوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا تب تک تو لوگوں سے زیادہ تعارض نہیں کرتے تھے مگر محاصرہ کرنے کے ساتھ ہی ان باغیوں نے دوسرے لوگوں پر بھی سختیاں شروع کر دیں۔اب یہ پنبہ دارالامن کی بجائے دارالحرب ہو گیا تھا۔اہل مدینہ کی عزت اور نگ و ناموس خطرے میں تھی اور کوئی شخص اسلحہ کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا تھا اور جو شخص ان کا مقابلہ کرتا اسے یہ لوگ قتل کر دیتے تھے۔جب ان لوگوں نے حضرت عثمان کا محاصرہ کر لیا اور پانی تک اندر جانے سے روک دیا تو حضرت عثمان نے اپنے ایک ہمسائے کے لڑکے کو حضرت علیؓ اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور امہات المومنین کی طرف بھیجا کہ ان لوگوں نے ہمارا پانی بھی بند کر دیا ہے۔آپ لوگوں سے اگر کچھ ہو سکے تو کوشش کریں اور ہمیں پانی پہنچائیں۔مردوں میں سب سے پہلے حضرت علی آئے اور آپؐ نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ تم لوگوں نے کیا رویہ اختیار کیا ہے۔تمہارا عمل تو نہ مومنوں سے ملتا ہے نہ کافروں سے۔حضرت عثمان کے گھر میں کھانے پینے کی چیزیں مت روکو۔حضرت علی نے ان کو فرمایا کہ روم اور فارس کے لوگ بھی قید کرتے ہیں تو کھانا کھلاتے ہیں اور پانی پلاتے ہیں اور اسلامی طریق کے موافق تو تمہارا یہ فعل کسی طرح بھی جائز نہیں کیونکہ حضرت عثمان نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کہ تم ان کو قید کر دینے اور قتل کر دینے کو جائز سمجھنے لگے ہو۔حضرت علی کی اس نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اس شخص تک دانہ پانی نہ پہنچنے دیں گے۔یہ وہ جواب تھا جو انہوں نے اس شخص کو دیا جسے وہ رسول کریم ملی الم کا وصی اور آپ کا حقیقی جانشین قرار دیتے تھے۔حضرت علی کے بارے میں ہی کہتے تھے ناں کہ یہ حقیقی جانشین ہے، اور اُن کو یہ جواب مل رہا ہے۔اور کیا اس جواب کے بعد کسی اور شہادت کی بھی اس امر کے ثابت کرنے کے لیے ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ حضرت علی کو وصی قرار دینے والا گروہ حق کی حمایت اور اہل بیت کی محبت کی خاطر اپنے گھروں سے نہیں نکلا تھا بلکہ یہ لوگ اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنے کے لیے آئے تھے۔