اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 348
اصحاب بدر جلد 3 348 683 حضرت عثمان بن عفان ایک اعتراض کا خوب جواب دیا گیا اور سب الزام غلط اور بے بنیاد ثابت کر دیے گئے۔حضرت عثمان کا رحم و کرم انہوں نے دیکھا اور ہر ایک شخص کی جان اس پر گواہی دے رہی تھی کہ اس شخص کا مثیل اتنار حم کرنے والا اس وقت دنیا کے پردے پر نہیں مل سکتا مگر بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں سے تو بہ کرتے ، جفاؤں پر پشیمان ہوتے ، اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے، اپنی شرارتوں سے رجوع کرتے۔یہ لوگ غیظ و غضب کی آگ میں اور بھی زیادہ جلنے لگے اور اپنے لاجواب ہونے کو اپنی ذلت اور حضرت عثمان کے عفو اور اپنے حسن تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہوئے آئندہ کے لئے اپنی بقیہ تجویز کے پورے کرنے کی تدابیر سوچتے ہوئے یہ لوگ واپس چلے گئے۔13 حضرت عثمان کے خلاف جو فتنہ اٹھا تھا اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے جو بیان فرمایا ہے اس کا ذکر ہو رہا تھا۔اس بارے میں مزید فرماتے ہیں اور زیادہ تر حوالے آپ نے طبری سے لے کر پھر ان کا تجزیہ کیا ہے یا اس کے مطابق آگے اپنا جو نقطہ نظر ہے اور جو تجزیہ ہے وہ پیش کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ تین لوگ یعنی محمد بن ابو بکر ، محمد بن حذیفہ اور عمار بن یاسر جو تھے یہ باغیوں کے ساتھ مل گئے تھے ، ان کی باتوں میں آگئے تھے۔فرمایا کہ اس کے سوا باقی شخص اہل مدینہ میں سے صحابی ہو یا غیر صحابی ان مفسدوں کا ہمد رد نہ تھا اور ہر ایک شخص ان پر لعنت ملامت کر تا تھا مگر ان کے ہاتھ میں اس وقت انتظام نہ تھا۔یہ کسی کی ملامت کی پروانہ کرتے تھے۔بیس دن تک یہ لوگ یعنی مخالفین جو تھے یہ صرف زبانی طور پر کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح حضرت عثمان خلافت سے دستبردار ہو جائیں مگر حضرت عثمان نے اس امر سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ جو قمیص مجھے خدا تعالیٰ نے پہنائی ہے میں اسے اتار نہیں سکتا اور نہ امت محمدیہ صلی اللہ ہم کو بے پناہ چھوڑ سکتا ہوں کہ جس کا جو جی چاہے دوسرے پر ظلم کرے۔ان لوگوں کو ، باغیوں کو بھی یہ سمجھاتے رہے کہ اس فساد سے باز آجائیں اور فرماتے رہے کہ آج یہ لوگ فساد کرتے ہیں اور میری زندگی سے بیزار ہیں۔آپؐ نے فرمایا یہ لوگ جو آج فساد کر رہے ہیں اور میری زندگی سے بیزار ہیں مگر جب میں نہ رہوں گا تو خواہش کریں گے کہ کاش عثمان کی عمر کا ایک ایک دن ایک ایک سال سے بدل جاتا اور وہ ہم سے جلد رخصت نہ ہو تا کیونکہ میرے بعد سخت خونریزی ہو گی اور حقوق کا اتلاف ہو گا اور انتظام کچھ کا کچھ بدل جائے گا۔چنانچہ بنو امیہ کے زمانے میں خلافت حکومت سے بدل گئی اور ان مفسدوں کو ایسی سزائیں ملیں کہ سب شرارتیں ان کو بھول گئیں۔بہر حال میں دن گزرنے کے بعد یہ مخالفین جو تھے، باغی جو تھے ان لوگوں کو خیال ہوا کہ جلد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے تا ایسانہ ہو کہ صوبہ جات سے فوجیں آجائیں اور ہمیں اپنے اعمال کی سزا بھگتنی پڑے۔پتہ تھا کہ ہم غلط ہیں اور اکثریت جو مسلمانوں کی ہے وہ حضرت عثمان کے ساتھ ہے۔اس لیے انہوں نے حضرت عثمان کا گھر سے نکلنا بند کر دیا اور کھانے پینے کی چیزوں کا اندر جانا بھی روک دیا اور سمجھے کہ شاید اس طرح مجبور ہو کر حضرت عثمان ہمارے مطالبات کو قبول کر لیں گے لیکن آپ نے تو