اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 345
صحاب بدر جلد 3 345 حضرت عثمان بن عفان میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بعض لوگ اسلام سے ایسے ہی ناواقف تھے جیسے کہ آج کل بعض نہایت تاریک گوشوں میں رہنے والے جاہل لوگ۔681" خمران ابن آبان ایک شخص تھا جس نے ایک عورت سے اس کی عدت کے دوران میں ہی نکاح کر لیا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ اس پر ناراض ہوئے اور اس عورت کو اس سے جدا کر دیا اور اس کے علاوہ اس کو مدینہ سے “ اس شخص کو مدینہ سے ” جلاوطن کر کے بصرہ بھیج دیا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی طرح بعض لوگ صرف اسلام کو قبول کر کے اپنے آپ کو عالم اسلام خیال کرنے لگے تھے اور زیادہ تحقیق کی ضرورت نہ سمجھتے تھے یا یہ کہ مختلف ابا حتی خیالات کے ماتحت شریعت پر عمل کرنا ایک فعل عبث خیال کرتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حق یہی ہے کہ یہ سب شورش ایک خفیہ منصوبہ کا نتیجہ تھی جس کے اصل بانی یہودی تھے جن کے ساتھ طمع دنیاوی میں مبتلا لبعض مسلمان جو دین سے نکل چکے تھے شامل ہو گئے تھے ورنہ امراء بلاد کا نہ کوئی قصور تھا نہ وہ اس فتنہ کے باعث تھے۔“ بعض یہودی اس کے بانی تھے اور ان کے ساتھ بعض مسلمان بھی مل گئے تھے۔بہر حال جو مختلف امراء حضرت عثمان کی طرف سے مقرر کئے گئے تھے ان کا کوئی قصور نہیں تھا نہ ہی وہ اس فتنہ کا باعث بنے تھے۔ان کا صرف اسی قدر قصور تھا کہ ان کو حضرت عثمان نے اس کام کے لئے مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان کا یہ قصور تھا کہ باوجود پیرانہ سالی اور نقاہت بدنی کے اتحاد اسلام کی رسی کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے بیٹھے تھے اور امت اسلامیہ کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے تھے اور شریعت اسلام کے قیام کی فکر رکھتے تھے اور متمر دین اور ظالموں کو اپنی حسب خواہش کمزوروں اور بے وارثوں پر ظلم و تعدی کرنے نہ دیتے تھے۔چنانچہ اس امر کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ کوفہ میں انہی فساد چاہنے والوں کی ایک مجلس بیٹھی اور اس میں افساد امر المسلمین پر گفتگو ہوئی تو سب لوگوں نے بالا تفاق یہی رائے دی۔لَا وَاللهِ لَا يَرْفَعُ رَأْسٌ مَا دَامَ عُلمانُ عَلَى النَّاس یعنی کوئی شخص اس وقت تک سر نہیں اٹھا سکتا جب تک کہ عثمان کی حکومت ہے۔عثمان ہی کا ایک وجود تھا جو سرکشی سے باز رکھے " ہوئے تھا۔اس کا درمیان سے ہٹا نا آزادی سے اپنی مرادیں پوری کرنے کے لئے ضروری تھا۔682 اس فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ مزید بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے ان مفسدوں کو بھی بلوایا اور آنحضرت علی ایم کے صحابہ کو بھی جمع کیا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے ان لوگوں کا سب حال سنایا اور وہ دونوں مخبر بھی بطور گواہ کھڑے ہوئے اور گواہی دی جنہوں نے خبریں حضرت عثمان کو پہنچائی تھیں کہ مفسدین کیا فساد پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس پر سب صحابہ نے فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو قتل کر دیا جائے۔یہ جو مفسدین ہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں ان کو قتل کر دیجیے کیونکہ رسول کریم صلی الہی تم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ ایک امام موجود ہو اپنی