اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 344

اصحاب بدر جلد 3 344 حضرت عثمان بن عفان پھر حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کی شروع خلافت میں چھ سال تک ہمیں کوئی فساد نظر نہیں آتا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر آپ سے خوش تھے۔بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں وہ حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ لوگوں کو محبوب تھے “ یعنی حضرت عثمان حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ لوگوں کو محبوب تھے ”صرف محبوب ہی نہ تھے بلکہ لوگوں کے دلوں میں آپے کا رعب بھی تھا جیسا کہ اس وقت کا شاعر اس امر کی شعروں میں شہادت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے فاسقو! عثمان کی حکومت میں لوگوں کا مال لوٹ کر نہ کھاؤ کیونکہ ابنِ عفان وہ ہے جس کا تجربہ تم لوگ کر چکے ہو۔وہ لٹیروں کو قرآن کے احکام کے ماتحت قتل کرتا ہے اور ہمیشہ سے اس قرآن کریم کے احکام کی حفاظت کرنے والا اور لوگوں کے اعضاء وجوارح پر اس کے احکام جاری کرنے والا ہے۔لیکن چھ سال کے بعد ساتویں سال ہمیں ایک تحریک نظر آتی ہے اور وہ تحریک حضرت عثمان کے خلاف نہیں بلکہ یا تو صحابہ کے خلاف ہے یا بعض گورنروں کے خلاف۔چنانچہ طبری بیان کرتا ہے کہ لوگوں کے حقوق کا حضرت عثمان پورا خیال رکھتے تھے مگر وہ لوگ جن کو اسلام میں سبقت اور قدامت حاصل نہ تھی وہ سابقین اور قدیم مسلمانوں کے برابر نہ تو مجالس میں عزت پاتے اور نہ حکومت میں ان کو ان کے برابر تفضیل پر حصہ ملتا اور نہ مال میں ان کے برابر ان کا حق ہو تا تھا۔اس پر کچھ مدت کے بعد بعض لوگ اس تھی گرفت کرنے لگے اور اسے ظلم قرار دینے لگے مگر یہ لوگ عامۃ المسلمین سے ڈرتے بھی تھے اور اس خوف سے کہ لوگ ان کی مخالفت کریں گے اپنے خیالات کو ظاہر نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ہوا تھا کہ خفیہ خفیہ صحابہ کے خلاف لوگوں میں جوش پھیلاتے تھے اور جب کوئی ناواقف مسلمان یا کوئی بدوی غلام آزاد شدہ مل جاتا تو اس کے سامنے اپنی شکایات کا دفتر کھول بیٹھتے تھے اور اپنی ناواقفیت کی وجہ سے یا خود اپنے لئے حصولِ جاہ کی غرض سے کچھ لوگ ان کے ساتھ مل جاتے۔ہوتے ہوتے یہ گروہ تعداد میں زیادہ ہونے لگا اور اس کی ایک بڑی تعداد ہو گئی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”جب کوئی فتنہ پیدا ہونا ہوتا ہے تو اس کے اسباب بھی غیر معمولی طور پر جمع ہونے لگتے ہیں۔ادھر تو بعض حاسد طبائع میں صحابہ کے خلاف جوش پیدا ہونا شروع ہوا اُدھر وہ اسلامی جوش جو ابتداء ہر ایک مذہب تبدیل کرنے والے کے دل میں ہوتا ہے ان نو مسلموں کے دلوں سے کم ہونے لگا جن کو نہ رسول کریم صلیا کم کی صحبت ملی تھی اور نہ آپ کے صحبت یافتہ لوگوں کے پاس زیادہ بیٹھنے کا موقع ملا تھا بلکہ اسلام کے قبول کرتے ہی انہوں نے خیال کر لیا تھا کہ وہ سب کچھ سیکھ گئے ہیں۔جوش اسلام کے کم ہوتے ہی وہ تصرف جو ان کے دلوں پر اسلام کو تھا کم ہو گیا اور وہ پھر ان معاصی میں خوشی محسوس کرنے لگے جس میں وہ اسلام لانے سے پہلے مبتلا تھے۔ان کے جرائم پر ان کو سزا ملی تو بجائے اصلاح کے سزا دینے والوں کی تخریب کرنے کے درپے ہوئے اور آخر اتحاد اسلامی میں ایک بہت بڑا رخنہ پیدا کرنے کا موجب ثابت ہوئے۔ان لوگوں کا مرکز تو کوفہ میں تھا مگر سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ خود مدینہ منورہ