اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 338
صحاب بدر جلد 3 338 حضرت عثمان بن عفان آج کے بعد اور بھی دن آنے والے ہیں اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ تمہارے سامنے مناسب خطاب بھی کر سکوں گا۔آج تو یہ مختصر خطاب کر رہا ہوں۔آئندہ دن بھی آئیں گے میں مناسب خطاب کروں گا۔پھر فرمایا: ہم کوئی خطیب نہیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ ہمیں سکھا دے گا۔اللہ تعالیٰ خطاب کرنے کے طریقے بھی سکھادے گا۔652 بدر بن عثمان اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ جب اہل شوریٰ نے حضرت عثمان کی بیعت کر لی تو آپ اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ ان سب سے زیادہ غمگین تھے۔پھر آپ رسول اللہ صلی علیکم کے منبر پر آئے اور لوگوں سے خطاب کیا۔آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور نبی کریم صلی کم پر درود بھیجا۔پھر فرمایا یقینا تم لوگ ایک ایسے گھر میں ہو جسے چھوڑ جاتا ہے یعنی یہ دنیا اور تم عمر کے آخری حصوں میں ہو اس لیے موت سے پہلے پہل جس قدر نیک کام کر سکتے ہو کر لو۔یقینا تم موت کے گھیرے میں ہو اور یہ دشمن صبح یا شام تم پر حملہ آور ہونے والا ہے۔خبر دار ! یقینا دنیا مکر و فریب سے آراستہ ہے۔پس تمہیں دنیاوی زندگی دھوکا نہ دے دے اور اللہ کے بارے میں سخت دھوکے باز شیطان تمہیں ہر گز دھوکے میں مبتلا نہ کرے۔گزرے ہوئے لوگوں سے عبرت حاصل کرو اور پھر بھر پور کوشش کرو اور غافل نہ رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تم سے غافل نہیں۔وہ دنیا دار اور ان کے بھائی کہاں ہیں جنہوں نے زمین کو پھاڑا اور اسے آباد کیا اور ایک لمبا عرصہ اس سے فائدہ حاصل کرتے رہے؟ کیا اس نے انہیں نکال باہر نہیں پھینکا؟ پس تم بھی دنیا کو وہاں پھینک دو جہاں اللہ تعالیٰ نے اسے پھینکا ہوا ہے اور آخرت کو طلب کرو۔آخرت کو طلب کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آخرت کی مثال اور اس چیز کی جو بہترین ہے مثال دیتے ہوئے فرمایا ہے۔وَاضْرِبُ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَاء أَنْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَاصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيحُ وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ۚ وَ البقيتُ الصَّلِحْتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَ خَيْرٌ أَمَلًا (الكيف :46-47) الکہف کی یہ آیات ہیں۔اور ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کر جو ایسے پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا۔پھر اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی شامل ہو گئی۔پھر وہ چورا چورا ہو گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے طور پر بہتر اور امنگ کے لحاظ سے بہت اچھی ہیں۔اس کے بعد لوگ آپ کی بیعت کرنے کے لیے لیکے۔حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں جو فتوحات ہو ئیں ان کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت عثمان کے دور خلافت میں درج ذیل علاقوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتوحات سے نوازا۔فتح افریقیہ۔یہ الجزائر اور مراکش کے علاقے ہیں۔فتح اندلس، سپین 27 / ہجری۔فتح قبرص، سائپرس (cyprus)۔128 ہجری۔فتح طبرستان 130 ہجری۔فتح صواری۔فتح آرمینیا۔فتح خراسان 131 ہجری۔بلا دروم کی طرف پیش قدمی مرؤ 653