اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 337
محاب بدر جلد 3 337 حضرت عثمان بن عفان ہے تو آپ نے چھ آدمیوں کے متعلق وصیت کی کہ وہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔وہ چھ آدمی یہ تھے۔حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر، حضرت طلحہ۔اس کے ساتھ ہی حضرت عبد اللہ بن عمر کو بھی آپ نے اس مشورہ میں شریک کرنے کے لیے مقرر فرمایا مگر خلافت کا حقدار قرار نہ دیا اور وصیت کی کہ یہ سب لوگ تین دن میں فیصلہ کریں اور تین دن کے لیے صہیب کو امام الصلوۃ مقرر کیا اور مشورہ کی نگرانی مقداد بن الاسود کے سپرد کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب کو ایک جگہ جمع کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں اور خود تلوار لے کر دروازہ پر پہرہ دیتے رہیں۔اور فرمایا کہ جس پر کثرت رائے سے اتفاق ہو سب لوگ اس کی بیعت کریں اور اگر کوئی انکار کرے تو اسے قتل کر دو لیکن اگر دونوں طرف تین تین ہو جائیں تو عبد اللہ بن عمر اُن میں سے جس کو تجویز کریں وہ خلیفہ ہو۔اگر اس فیصلہ پر وہ راضی نہ ہوں تو جس طرف عبد الرحمن بن عوف ہوں وہ خلیفہ ہو۔آخر پانچوں اصحاب نے مشورہ کیا کیونکہ طلحہ اس وقت مدینہ میں نہیں تھے) مگر کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوا۔بہت لمبی بحث کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ اچھا جو شخص اپنا نام واپس لینا چاہتا ہے وہ بولے۔جب سب خاموش رہے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنا نام واپس لیتا ہوں۔پھر حضرت عثمان نے کہا کہ میں بھی لیتا ہوں ”پھر باقی دونے “ بھی کہا۔حضرت علی خاموش رہے۔آخر انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے عہد لیا کہ وہ فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے۔انہوں نے عہد کیا اور سب کام ان کے سپر د ہو گیا۔“ یعنی حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سپرد ہو گیا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف تین دن مدینہ کے ہر گھر گئے اور مر دوں اور عورتوں سے پوچھا کہ ان کی رائے کسی شخص کی خلافت کے حق میں ہے۔سب نے یہی کہا کہ انہیں حضرت عثمان کی خلافت منظور ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ خلیفہ ہو گئے۔“ علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان کی 29 ذوالحجہ 23 ہجری کو پیر کے روز بیعت کی گئی۔نَزَّال بن سبرہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان خلیفہ منتخب ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: ہم نے باقی رہ جانے والوں میں سے سب سے بہترین شخص کا انتخاب کیا ہے اور ہم نے اس انتخاب میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔حضرت عثمان نے خلافت پر متمکن ہونے کے بعد جب پہلا خطاب فرمایا تو اس کے بارے میں یہ روایت ہے کہ اسماعیل بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ابور بیعہ مخزومی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کی بیعت کی گئی تو آپ یعنی حضرت عثمان لوگوں میں تشریف لائے اور ان سے خطاب فرمایا۔جس میں آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا۔اے لوگو! اپہلے پہل جو کام کیا جائے وہ مشکل ہوتا ہے۔نیا نیا کام کوئی پہلی دفعہ کر رہا ہو تو مشکل ہوتا ہے۔651"