اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 326
اصحاب بدر جلد 3 326 حضرت عثمان بن عفان دریغ نہ کیا تھا کہ اگر دشمن نے اسلامی سفیر کو مار دیا ہے تو آج دو صورتوں میں سے ایک ضرور پیدا کر کے چھوڑیں گے یا وہ شام سے پہلے پہلے مکہ کو فتح کر کے چھوڑیں گے یا شام سے پہلے پہلے میدان جنگ میں مارے جائیں گے۔لیکن ابھی بیعت سے مسلمان فارغ ہی ہوئے تھے کہ حضرت عثمان واپس آگئے اور انہوں نے بتایا کہ مکہ والے اس سال تو عمرے کی اجازت نہیں دے سکتے مگر آئندہ سال اجازت دینے کے لیے تیار ہیں۔چنانچہ اس بارے میں معاہدہ کرنے کے لیے انہوں نے اپنے نمائندے مقرر کر دیے۔حضرت عثمان کے آنے کے تھوڑی دیر کے بعد مکہ کا ایک رئیس سہیل نامی معاہدہ کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ معاہدہ لکھا گیا۔630 ایک غزوہ تھا غزوہ ذات الرقاع: نبی کریم صلی علیہ یکم مسجد میں غطفان کے قبیلہ بنو ثعلبہ اور بنو مُحَارِب پر حملہ کے لیے چار سو یا ایک روایت کے مطابق سات سو صحابہ کی جمعیت کے ساتھ روانہ ہوئے اور مدینہ میں حضرت عثمان کو امیر مقرر فرمایا اور ایک روایت کے مطابق حضرت ابو ذر غفاری کو امیر مقرر فرمایا۔آنحضرت صلی الله علم مسجد میں نخل مقام پر پہنچے جسے ذات الرقاع کہتے ہیں۔وہاں آنحضرت صلی علیکم کے مقابلے کے لیے بڑا لشکر تیار تھا۔دونوں گروہ ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئے تاہم جنگ نہ ہوئی اور لوگ ایک دوسرے سے خوفزدہ رہے۔اسی جنگ کے دوران پہلی مرتبہ مسلمانوں نے صلوۃ خوف ادا 631 اس غزوہ کی وجہ تسمیہ کے بارہ میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ اسے ذات الرقاع اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں صحابہ نے اپنے جھنڈوں میں پیوند لگائے ہوئے تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں درخت یا پہاڑ تھا جس کا نام ذات الرقاع ہے۔بخاری کی ایک روایت میں اس طرح ذکر ہے: حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک حملے میں نبی صلی علیکم کے ساتھ نکلے اور ہم چھ آدمی تھے۔ہمارے پاس ایک مشترکہ اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ہمارے پاؤں پھٹ گئے یعنی غزوہ میں چھ آدمی نہیں تھے۔یہ چھ آدمی اس اونٹ کے لیے تھے۔اور میرے دونوں پاؤں بھی پھٹ گئے اور میرے ناخن گر گئے اور ہم اپنے پاؤں پر کپڑوں کے ٹکڑے لپیٹتے تھے۔اس لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع یعنی چیتھڑوں والی لڑائی رکھا گیا کیونکہ ہم کپڑوں کے ٹکڑے اپنے پیروں پر باندھے ہوئے تھے۔632 یہ ایک نوٹ ہے وہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔ریسرچ سیل نے ٹھیک نوٹ لکھا ہے کہ کتب تاریخ و سیر کے مطابق غزوہ ذات الرقاع چار ہجری میں ہوا تھا جبکہ امام بخاری نے اس غزوہ کو غزوہ خیبر کے بعد قرار دیا ہے کیونکہ حضرت ابو موسیٰ اشعر کی اس غزوہ میں شامل ہوئے تھے اور وہ غزوہ خیبر کے بعد مسلمان ہوئے تھے * اس لیے سات ہجری کی تاریخ اس غزوہ کی زیادہ قرین قیاس ہے۔533 * غزوہ خیبر کے بعد مدینہ تشریف لائے تھے۔مرتب