اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 297

اصحاب بدر جلد 3 297 حضرت عمر بن خطاب ہم ان کی حفاظت کے لیے نیزہ بازی اور شمشیر زنی کے جوہر نہ دکھائیں۔ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ ہم ان کے قریب جنگ کرتے ہوئے مارے جائیں اور اپنے فرزند اور اہل و عیال کو بھول جائیں۔وَمَا حَمَلَتْ مِنْ نَاقَةٍ فَوْقَ رَحْلِهَا أَبَرَ وَ أَوْفَى ذِمَّةً مِنْ مُحَمَّدِ کسی اونٹنی نے اپنی پشت پر حضرت محمد صلی علیہ کم سے بڑھ کر نیکی کرنے والا اور وعدہ پورا کرنے والے 585 انسان کو نہیں اٹھایا۔ایک تاریخ دان ڈاکٹر علی محمد صلابی اپنی کتاب ”سید نا عمر بن خطاب۔شخصیت اور کارنامے “ میں شعر و شاعری سے لگاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ خلفائے راشدین میں سب سے زیادہ شعر کے ذریعہ مثال دینے والے حضرت عمرؓ تھے۔آپ کے بارے میں بعض لوگوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ آپ کے سامنے شاید ہی کوئی معاملہ آتا رہا ہو اور آپ اس پر شعر نہ سناتے رہے ہوں۔بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نیا جوڑا زیب تن کر کے باہر نکلے۔لوگ آپ کو بہت دھیان سے دیکھنے لگے۔اس پر آپ نے انہیں مثال دیتے ہوئے یہ اشعار سنائے: لَمْ تُغْنِ عَنْ هُرْ مُزِ يَوْمًا خَزَائِنُهُ أَيْنَ الْمُلُوكُ الَّتِي كَانَتْ نَوَافِلُهَا وَالخُلْدُ قَدْ حَاوَلَتْ عَادٌ فَمَا خَلَدُوا مِنْ كُلِّ أَوْبِ إِلَيْهَا رَا كِبْ يَفِدُ کہ موت کے وقت ہر مز کو اس کے خزانوں نے کوئی فائدہ نہ دیا اور قوم عاد نے ہمیشہ آباد رہنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ نہ رہی۔کہاں گئے وہ بادشاہ جن کے چشموں گھاٹوں سے ہر طرف سے آنے والا 586 قافلہ سیراب ہو تا تھا۔علی محمد صلابی لکھتے ہیں کہ حضرت عمر ا نہی اشعار کو پسند کرتے تھے جن میں اسلامی زندگی کا جو ہر چمکتا ہو۔وہ اسلامی خصوصیات کی عکاسی کرتے ہوں اور ان کے معانی اور مطالب اسلام کی تعلیمات کے خلاف اور اس کی اقدار سے متعارض نہ ہوں۔آپ مسلمانوں کو بہترین اشعار یاد کرنے پر ابھارتے اور فرماتے تھے۔شعر سیکھو۔اس میں وہ خوبیاں ہوتی ہیں جن کی تلاش ہوتی ہے نیز حکماء کی حکمت ہوتی ہے اور مکارم اخلاق کی طرف راہنمائی ہوتی ہے۔آپ شعر کے فوائد کے سلسلہ میں صرف اتنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اسے دلوں کی چابی اور انسان کے جسم میں خیر کے جذبات کا محرک تصور کرتے تھے۔آپ شعر کی فضیلت اور فائدے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ انسان کا سب سے بہترین فن شعر کے چند ابیات کی تخلیق ہے جنہیں وہ اپنی ضرورتوں میں پیش کرتا ہے۔ان میں کریم اور سخی آدمی کے دل کو نرم کر لیتا ہے اور کمینے شخص کے دل کو اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔جاہلی شعراء، زمانہ جاہلیت کے جو پرانے شعراء تھے، ان کے کلام کو بھی اس لیے کافی لگن سے یاد