اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 284 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 284

اصحاب بدر جلد 3 284 حضرت عمر بن خطاب کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی جگہ کے بارے میں سنو کہ وہاں کوئی وبا پھوٹ پڑی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر کوئی مرض کسی ایسی جگہ پر پھوٹ پڑے جہاں تم رہتے ہو تو وہاں سے فرار ہوتے ہوئے باہر مت نکلو۔اس پر حضرت عمرؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔535 حضرت عمر مدینہ سے آئے تھے اور ابھی وبا والی جگہ پر نہیں پہنچے تھے اس لیے اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس آگئے لیکن حضرت ابو عبیدہ چونکہ فوجیوں کے سپہ سالار تھے اور پہلے سے ہی وبا والے علاقے میں مقیم تھے اس لیے آپ اور مسلمان فوجیں طاعون زدہ علاقے میں ہی رہیں۔جو جہاں تھے وہ وہیں رہے۔مدینہ پہنچ کر حضرت عمرؓ نے شام کے مسلمانوں کے متعلق سوچنا شروع کیا کہ انہیں طاعون کی تباہ کاریوں سے کیسے بچایا جائے۔خاص طور پر حضرت عمر کو حضرت ابو عبیدہ کا بہت خیال تھا۔ایک دن حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ کو خط بھیجا کہ مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے اس لیے جب تمہیں یہ خط پہنچے تو فورا مد ینہ کے لیے روانہ ہو جانا۔اگر خط رات کو پہنچے تو صبح ہونے کا انتظار نہ کرنا اور اگر خط صبح پہنچے تو رات ہونے کا انتظار نہ کرنا۔یہ محبت تھی آپ کی حضرت ابو عبیدہ سے۔حضرت ابو عبیدہ نے جب وہ خط پڑھا تو کہنے لگے میں امیر المومنین کی ضرورت کو جانتا ہوں۔اللہ حضرت عمر پر رحم کرے وہ اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والا نہیں ہے۔یعنی یہ تو اللہ جانتا ہے کہ میرے ساتھ کیا ہونا ہے ، ابو عبیدہ نے یہ سوچا۔پھر اس خط کا جواب دیا کہ یا امیر المومنین ! میں آپ کی منشا کو سمجھ گیا ہوں مجھے نہ بلائیے۔یہیں رہنے دیجیے۔میں مسلمان سپاہیوں میں سے ایک ہوں۔جو مقدر ہے وہ ہو کر رہے گا۔میں ان سے کیسے منہ موڑ سکتا ہوں۔حضرت عمرؓ نے جب وہ خط پڑھا تو رو پڑے۔حاضرین نے پوچھا کہ یا امیر المومنین ! کیا حضرت ابو عبیدہ فوت ہو گئے۔آپ نے فرمایا نہیں لیکن شاید ہو جائیں۔536 حضرت عمرؓ نے اہل الرائے اصحاب کے مشورے کے بعد حضرت ابو عبیدہ کو لکھا کہ تم لوگوں کو نشیب میں لے کر اترے ہو اس لیے کسی بلند اور پر فضا مقام پر چلے جاؤ۔نیچی جگہ کی بجائے ذرا اونچی جگہ ، پہاڑی جگہ پر چلے جاؤ جہاں ذرا ہوا بھی صاف ہو۔حضرت ابو عبیدہ ابھی اس حکم کی تعمیل کے متعلق فکر کر رہے تھے کہ طاعون نے ان پر وار کیا اور وہ فوت ہو گئے۔حضرت ابو عبیدہ نے اپنے جانشین حضرت معاذ بن جبل کو نامزد کیا تھا لیکن وہ بھی طاعون میں مبتلا ہو گئے اور ان کا انتقال ہو گیا۔حضرت معاذ بن جبل نے اپنا قائمقام حضرت عمرو بن عاص کو بنایا تھا۔آپ نے ایک تقریر کی اور فرمایا: یہ وبا جب پھوٹتی ہے تو آگ کی طرح پھیلتی ہے۔پہاڑوں میں چھپ کر اپنی جانیں بچاؤ۔آپ لوگوں کو لے کر وہاں سے نکلے اور پہاڑوں میں چلے گئے یہاں تک کہ وبا کا زور ٹوٹ گیا اور گھٹتے گھٹتے بالکل ختم ہو گیا۔حضرت عمررؓ کو حضرت عمرو بن عاص کی اس تقریر کا علم ہوا تو نہ صرف یہ کہ آپ نے اسے پسند