اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 264

حاب بدر جلد 3 264 حضرت عمر بن خطاب لائے تو آپ کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی۔وہ ایک موٹی اور سُنبُلانی قمیص تھی۔سُنبُلانی ایسی قمیص جو اتنی لمبی ہو کہ زمین کے ساتھ لگ رہی ہو اور اس طرح کی قمیص روم کی طرف بھی منسوب کی جاتی ہے۔بہر حال آپ نے اس قمیص کو آخر عات یا ایلہ والوں کی طرف بھیجا۔ایلہ شام کی طرف ایک شہر ہے اور شام کے ساتھ بحیرہ قلزم کے ساحل پر واقع ایک شہر ہے۔بہر حال راوی کہتے ہیں کہ پس اس نے اس قمیص کو دھویا اور اس میں پیوند لگا دیا اور حضرت عمرؓ کے لیے قبطری قمیص بھی تیار کر دی۔قبطری گتان سے بنا ہوا سفید باریک کپڑا ہوتا ہے۔پھر ان دونوں قمیصوں کو لے کر حضرت عمر کے پاس آیا اور آپ کے سامنے قبطری قمیص پیش کی۔حضرت عمرؓ نے اس قمیص کو پکڑا اور اس کو چھوا اور فرمایا: یہ زیادہ نرم ہے اور اس کو اسی آدمی کی طرف پھینک دیا اور فرمایا: مجھے میری قمیص دے دو کیونکہ وہ قمیصوں میں سے پسینہ کو زیادہ چوسنے والی ہے۔479 پھٹی ہوئی جو تم نے مرمت کی ہے وہی بہتر ہے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو اس وقت دیکھا جب آپ امیر المومنین تھے کہ آپ کے کندھوں کے درمیان قمیص میں تین چھڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت انس بیان کرتے ہیں۔میں نے حضرت عمرؓ کے کندھوں کے در میان قمیص میں چار چمڑے کے پیوند دیکھے۔80 حضرت حفصہ بنت عمر حضرت عمر کی دنیا سے بے رغبتی اور زہد کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتی ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ اپنے والد بزرگوار سے کہا اے امیر المومنین ! اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اس طرح مخاطب کیا کہ اے میرے باپ! اللہ نے رزق کو وسیع کیا ہے اور آپ کو فتوحات عطا کی ہیں اور کثرت سے مال عطا کیا ہے کیوں نہ آپ اپنے کھانے سے زیادہ نرم غذا کھایا کریں اور اپنے اس لباس سے زیادہ نرم لباس پہنا کریں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا میں تم سے ہی اس امر کا فیصلہ چاہوں گا۔کیا تمہیں یاد نہیں کہ رسول اللہ صل الی یم کو زندگی میں کتنی سختیاں گزارنی پڑیں۔راوی کہتے ہیں کہ آپ مسلسل حضرت حفصہ کو یہ یاد دلاتے رہے یہاں تک کہ حضرت حفصہ کو رلا دیا۔پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جہاں تک مجھ میں طاقت ہو گی میں رسول اللہ صلی علیم اور حضرت ابو بکر کی زندگیوں کی سختی میں شامل رہوں گا تا کہ شاید میں ان دونوں کی راحت کی زندگی میں بھی شریک ہو جاؤں۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت حفصہ سے کہا کہ اے حفصہ بنت عمر اتم نے اپنی قوم کی خیر خواہی تو کی ہے لیکن اپنے باپ کی خیر خواہی نہیں کی۔تم نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ یہ ہو گا تو قوم کی بہتر خدمت کروں گا لیکن میری خیر خواہی نہیں ہے۔اور پھر فرمایا کہ میرے خاندان والوں کا صرف میری جان اور میرے مال پر حق ہے لیکن میرے دین اور میری امانت میں ان کا کوئی حق نہیں۔481